around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 25°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
دنیا

ٹرمپ کا اسرائیل کو سالانہ اربوں ڈالر کی فوجی امداد بند کرنے کا اعلان

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا رواں سال کے اختتام کے بعد اسرائیل کو سالانہ تقریباً چار ارب ڈالر کی فوجی امداد دینا بند کر دے گا، تاہم اسرائیل کو امریکی ہتھیار خریدنے کی اجازت برقرار رہے گی۔

around.pk·1h ago

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا رواں سال کے اختتام کے بعد اسرائیل کو سالانہ تقریباً چار ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنا بند کر دے گا، البتہ اسرائیل امریکی ہتھیار خریدتا رہ سکے گا۔ یہ اعلان انھوں نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں کیا۔

ٹرمپ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے درمیان اس معاملے پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور دونوں کئی برس سے اس حوالے سے بات چیت کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے خود امداد ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی کیونکہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ اب اسے امریکی مالی مدد نہیں لینی چاہیے۔

امریکی صدر نے مزید واضح کیا کہ اگر اسرائیل کو ضرورت پڑی تو امریکا دوبارہ اس کی مدد کرے گا اور اسرائیل امریکی ہتھیار خریدنے کے لیے بھی آزاد رہے گا۔ یوں یہ اقدام فوجی تعاون کے مکمل خاتمے کے بجائے مالی امداد کی صورتحال میں تبدیلی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اعلان موجودہ معاہدے کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے درمیان 2016 میں طے پانے والے دس سالہ مفاہمتی معاہدے کے تحت اسرائیل کو سالانہ تین ارب 80 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد دی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو پہلے بھی امریکی امداد پر انحصار بتدریج کم کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں، تاہم ان کا منصوبہ آئندہ ایک دہائی میں اس مقصد کے حصول کا تھا، جبکہ تازہ اعلان اس سے مختلف اور زیادہ فوری نوعیت کا دکھائی دیتا ہے۔

یاد رہے کہ غزہ اور ایران کے حوالے سے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں امریکی معاونت پر صدر ٹرمپ کو امریکی ووٹرز کی جانب سے مخالفت کا سامنا بھی رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات سے قبل اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کا اعلان کر کے وہ عوام میں ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ امریکی خارجہ پالیسی اور مشرق وسطیٰ میں فوجی توازن سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس اعلان کے عملی اثرات اور موجودہ معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کو مستقبل قریب میں اہمیت حاصل رہے گی۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں