ٹرمپ کا ایران سے معاہدے کا اشارہ، پکیکس ماؤنٹین پر ایک گھنٹے میں حملے کی دھمکی بھی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران جلد سمجھوتہ چاہتا ہے، تاہم انہوں نے دھمکی دی ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایران کی مشتبہ جوہری تنصیب پکیکس ماؤنٹین کو ایک گھنٹے کے اندر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی کشمکش کے درمیان ایک طرف معاہدے کے امکانات کا اشارہ دیا ہے تو دوسری طرف فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دہرائی ہے۔ انہوں نے پیر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران جلد از جلد معاہدہ چاہتا ہے اور امریکا کے ساتھ سمجھوتہ ممکن ہے۔ ایرانی حکام نے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شدید نوعیت کے تبادلوں کی اطلاع دی ہے، جس سے سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے سخت شرائط کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم سمندری راستہ ہے اور اس کی بندش یا محدود آمدورفت سے عالمی توانائی منڈی پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
مذاکرات میں پیش رفت کے اشاروں کے چند گھنٹے بعد وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ سامنے آئی جس کے مطابق امریکا نے حالیہ ہفتوں میں ایران کے خلاف محدود نوعیت کے کئی حملے کیے جنہیں خفیہ رکھا گیا۔ ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم پر مختصر وقفے سے پانچ دھماکوں کی اطلاع دی، جس نے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر ایران کے مشتبہ جوہری مرکز پکیکس ماؤنٹین کو ایک گھنٹے کے اندر نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کے بقول امریکا ایران کی ممکنہ جوہری صلاحیت کو پہلے ہی تباہ کر چکا ہے، تاہم پکیکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے کا آپشن اب بھی موجود ہے اور امریکی فوج جب چاہے اس مقام پر حملہ کر سکتی ہے۔
خیال رہے کہ امریکا میں منگل کو وسط مدتی انتخابات ہو رہے ہیں جن میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اپنی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور عوامی بے اطمینانی انتخابی مہم کے اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں، جس کے پیش نظر ٹرمپ کا ایک طرف مذاکرات کی امید ظاہر کرنا اور دوسری طرف فوجی دھمکی دینا واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی و عسکری کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔
ابھی تک مذاکرات کے ممکنہ نتائج یا کسی حتمی معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ عالمی مبصرین کی نظر اس بات پر ہے کہ آیا دونوں فریق مذاکراتی راستے کو ترجیح دیتے ہیں یا فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ خطے میں عدم استحکام کا براہ راست اثر عالمی توانائی کی فراہمی اور قیمتوں پر پڑتا ہے۔










