around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 31°☀ لاہور 27°☀ اسلام آباد 25°
پاکستان

پشاور: 13 نجی اسکولوں کو خطرناک عمارتیں فوری خالی کرنے کا حکم

ضلعی انتظامیہ پشاور نے خستہ حال عمارتوں میں چلنے والے 13 نجی اسکولوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عمارتیں فوری خالی کرنے اور تعلیمی سرگرمیاں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

around.pk·2h ago

ضلعی انتظامیہ پشاور نے شہر کے 13 نجی اسکولوں کو قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی خستہ حال عمارتیں فوری طور پر خالی کریں اور طلبہ و طالبات کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔ یہ فیصلہ انسپیکشن ٹیم کی اس رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے جس میں ان اسکولوں کی عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا تھا۔

نوٹس کے مطابق ان عمارتوں میں زیرتعلیم بچوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں، کیونکہ تعمیراتی ڈھانچہ کسی بھی وقت گرنے یا نقصان پہنچنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر متعلقہ اسکول انتظامیہ کو واضح کیا گیا ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں کسی دوسرے محفوظ مقام پر منتقل کی جائیں تاکہ طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ضلعی انتظامیہ نے نوٹس میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر ان عمارتوں میں کسی ناخوشگوار واقعے کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا تو اس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ اسکول انتظامیہ پر ہوگی۔ اس سخت انتباہ کا مقصد اسکول مالکان کو مجبور کرنا ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کو کسی بھی تجارتی مفاد پر ترجیح دیں۔

یاد رہے کہ پشاور جیسے گنجان آباد شہر میں کئی نجی تعلیمی ادارے پرانی اور کمزور عمارتوں میں چل رہے ہیں، جہاں حفاظتی معیارات پر اکثر عمل نہیں ہوتا۔ ماہرین تعمیرات کے مطابق ایسی عمارتیں زلزلے یا شدید بارشوں کی صورت میں بڑے خطرے کا سبب بن سکتی ہیں، اس لیے ان کی باقاعدہ جانچ اور مرمت وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ طلبہ کی حفاظت ریاست اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی قابل قبول نہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے تاکہ اسکول انتظامیہ جلد از جلد محفوظ متبادل انتظامات مکمل کرے۔

یہ اقدام پشاور میں تعلیمی اداروں کی حفاظت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کا اصل اثر اس وقت سامنے آئے گا جب ان اسکولوں کی جانب سے محفوظ مقامات پر منتقلی کے عمل کی تصدیق کی جائے گی اور متاثرہ طلبہ کی تعلیم میں تعطل پیدا نہ ہو۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں