پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ محفوظ
الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ تبدیل کرنے کی حکومت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، حکومت 20 جنوری کے بعد انتخابات چاہتی ہے جبکہ کمیشن نے 15 دسمبر سے 15 جنوری کی تجویز پر غور کیا۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ تبدیل کرنے کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی، جس میں وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لوکل کمیشن نے شرکت کی۔
سماعت کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب کی کابینہ کمیٹی اور الیکشن کمیشن کے درمیان ہونے والے اجلاس میں صوبائی حکومت نے 15 دسمبر سے 15 جنوری کے دوران انتخابات کرانے کی تجویز دی تھی۔ تاہم حکومت نے اب مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے 20 جنوری کے بعد کی تاریخ مقرر کی جائے تاکہ تیاریوں کے لیے مناسب وقت مل سکے۔
چیف سیکرٹری پنجاب نے موقف اختیار کیا کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، مگر عملے کے انتظامات اور لاجسٹکس کے حوالے سے مزید وقت درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دسمبر میں پنجاب اور لاہور میں شدید دھند پڑتی ہے جس سے انتخابی عمل متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ 20 جنوری کے بعد موسم بہتر ہو جاتا ہے۔
دوران سماعت الیکشن کمیشن کے ایک رکن نے ریمارکس دیے کہ حکومت پہلے اپریل میں انتخابات کرانے کی بات کر رہی تھی۔ جواب میں چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ اب جنوری اور فروری کی تاریخوں پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم اپریل کا وقت اس لحاظ سے موزوں تھا کہ اسکولوں میں چھٹیاں ہوتی ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ سردیوں میں دن چھوٹا ہونے کی وجہ سے ووٹرز کی شرکت کم رہتی ہے، جبکہ اپریل میں دن لمبا ہونے سے ووٹ ڈالنے کے لیے زیادہ وقت دستیاب ہوتا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ 20 جنوری کے بعد انتخابات کرانے کی درخواست پر غور کیا جائے گا اور اس کے بعد حتمی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا تعین صوبائی حکومت کی سفارش اور الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد عمل میں آتا ہے، اور اس معاملے پر جلد فیصلے کی توقع ہے۔
یاد رہے کہ بلدیاتی نظام مقامی سطح پر عوامی نمائندگی کو یقینی بناتا ہے اور اس کے انعقاد میں تاخیر مقامی ترقیاتی منصوبوں اور خدمات کی فراہمی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس لیے انتخابی شیڈول کے حتمی اعلان کو سیاسی اور انتظامی حلقوں میں اہمیت حاصل ہے۔








