چینی الیکٹرک گاڑی نے 503 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
چین کی کمپنی بی وائی ڈی کی لگژری الیکٹرک ہائپرکار یانگ وانگ یو 9 ایکسٹریم نے ابوظہبی میں 503.17 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر کے دنیا کی تیز ترین پروڈکشن کار ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

چین کی معروف خودرو ساز کمپنی بی وائی ڈی کی لگژری الیکٹرک ہائپرکار ’یانگ وانگ یو 9 ایکسٹریم‘ نے دنیا کی تیز ترین پروڈکشن کار ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں یکم نومبر 2026 کو منعقدہ اس ریکارڈ ساز مہم کے دوران گاڑی نے 503.17 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حیران کن رفتار حاصل کی، جسے گنیز ورلڈ ریکارڈز نے تسلیم کیا۔
اس تاریخی کارکردگی کے ساتھ یانگ وانگ یو 9 ایکسٹریم نہ صرف دنیا کی تیز ترین الیکٹرک گاڑی بلکہ مجموعی طور پر تیز ترین پروڈکشن کار بھی قرار پائی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ستمبر 2025 میں اسی گاڑی کی رفتار 496.22 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی تھی، جسے اب مزید بہتر بنا دیا گیا ہے۔
ریکارڈ ساز ڈرائیو کے دوران گاڑی چلانے کی ذمہ داری معروف ریسنگ ڈرائیور مارک باسنگ نے انجام دی۔ رپورٹس کے مطابق اس مہم کو بین الاقوامی موٹر اسپورٹ ادارے ایف آئی اے کی جانب سے بھی تسلیم کیا گیا اور بی وائی ڈی نے اس موقع پر چار گنیز ورلڈ ریکارڈز اپنے نام کیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ریکارڈ بنانے والی گاڑی میں استعمال ہونے والے گیٹی ٹائرز نے بھی دنیا کے تیز ترین الیکٹرک اور روڈ کار ٹائر کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کامیابی کو الیکٹرک گاڑیوں کی کارکردگی اور ان کی رفتار کی صلاحیت کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ کارکردگی عوامی سڑک پر حاصل کی گئی، جس کی مکمل ویڈیو بی وائی ڈی نے جاری کی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ریکارڈ الیکٹرک گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت کا مظہر ہے اور اس سے عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں مقابلہ مزید تیز ہو سکتا ہے۔
گاڑیوں کی صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ریکارڈز صرف رفتار کا مظاہرہ نہیں ہوتے بلکہ یہ بیٹری، موٹر اور ایروڈائنامکس سمیت متعدد ٹیکنالوجیز کی کارکردگی کا بھی ثبوت ہوتے ہیں، جن سے مستقبل کی گاڑیوں کی تیاری میں مدد ملتی ہے۔











