گھنٹوں ریلز دیکھنے کی عادت سے چھٹکارا پانے کا نیا ٹرینڈ ’برین اسٹیکنگ‘
سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والا نیا ٹرینڈ برین اسٹیکنگ صارفین کو موبائل اسکرین سے دور رکھ کر دماغ کو کتابوں، پہیلیوں اور لکھنے جیسی مفید سرگرمیوں میں مصروف کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

کیا آپ بھی اکثر صرف چند منٹ کے لیے موبائل اٹھاتے ہیں لیکن دیکھتے ہی دیکھتے گھنٹوں ریلز اسکرول کرنے میں گزار دیتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والا ایک نیا ٹرینڈ آپ کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے، جس کا نام برین اسٹیکنگ ہے۔
اس ٹرینڈ کا بنیادی مقصد موبائل اسکرین سے دور رہتے ہوئے دماغ کو مفید سرگرمیوں میں مصروف رکھنا ہے۔ اس طریقے میں کتابیں، ڈائری، سوڈوکو، کراس ورڈ پزلز اور ڈرائنگ کا سامان ایک ہی جگہ جمع کر کے رکھا جاتا ہے تاکہ جب بھی ریلز دیکھنے کا دل کرے تو فون اٹھانے کے بجائے ان میں سے کوئی سرگرمی شروع کی جا سکے۔
سوشل میڈیا صارفین اپنی روزمرہ زندگی میں ان سرگرمیوں کو شامل کرنے کی ویڈیوز بھی شیئر کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ٹرینڈ تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق کتابیں پڑھنے، پہیلیاں حل کرنے اور لکھنے جیسی سرگرمیاں توجہ، یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو متحرک رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
خاص طور پر سوڈوکو جیسی ذہنی مشقیں توجہ مرکوز کرنے اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس طریقے کو اپنانے کے لیے کسی مہنگے سامان کی ضرورت نہیں بلکہ گھر میں موجود کتاب، نوٹ بک یا اخبار کی پہیلیوں سے آغاز کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ روزانہ چائے پینے کے بعد یا سونے سے پہلے صرف دس منٹ ان سرگرمیوں کے لیے مختص کیے جائیں اور یہ سامان موبائل کی طرح آسانی سے پہنچ میں رکھا جائے۔ اس طرح موبائل کی لت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ برین اسٹیکنگ موبائل کی عادت ختم کرنے کا کوئی یقینی حل نہیں، تاہم یہ غیر ضروری اسکرولنگ کو کم کرنے اور پرانے مشاغل کو دوبارہ اپنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ طریقہ ان صارفین کے لیے خاصا مفید ہے جو سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے کے باوجود اپنی روزمرہ مصروفیات پر توجہ نہیں دے پاتے۔ ان کے لیے یہ ایک آسان اور کم خرچ حل ہے۔











