کراچی میں اساتذہ کا احتجاج: وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش پر پولیس کی کارروائی، حراست میں لیے گئے افراد رہا
آل سندھ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے اساتذہ نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے واٹر کینن اور لاٹھی چارج کیا۔ حراست میں لیے گئے تمام مظاہرین کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔

کراچی میں سندھ بھر سے آئے پرائمری اسکول اساتذہ نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور پھر ریلی کی صورت میں وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی۔ پولیس کی بھاری نفری نے راستہ روک دیا اور واٹر کینن، لاٹھی چارج اور شیلنگ کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں کئی اساتذہ زخمی ہوئے اور ایک استاد کو اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
آل سندھ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی اس پیش قدمی کو پولیس نے ناکام بنا دیا۔ واقعے کے بعد حراست میں لیے گئے تمام مظاہرین کو رہا کر دیا گیا، جن میں ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر اعجاز علی چانڈیو بھی شامل تھے۔ رہائی کے بعد مظاہرین اپنی قیادت سمیت پریس کلب کے باہر کیمپ میں بیٹھ گئے، جہاں وکلاء نے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن حیدرآباد کی ٹیچر شبینہ خان نے بتایا کہ اساتذہ اگست سے اپنے مطالبات کے لیے تحریک چلا رہے ہیں اور یہ احتجاج اچانک نہیں کیا گیا، بلکہ حکومت کو پہلے ہی چودہ مطالبات پیش کر دیے گئے تھے۔ ان کے مطابق سب سے اہم مطالبہ پرائمری اساتذہ کے لیے سروس اسٹرکچر کی بحالی ہے، کیونکہ اساتذہ برسوں سے اپنے موجودہ گریڈز میں کام کر رہے ہیں اور ترقی کے مواقع محدود ہیں۔
شبینہ خان کے مطابق بعض پرائمری اساتذہ نویں، چودہویں اور سولہویں گریڈ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ ہائی اسکول ٹیچرز کو ترقی کے مواقع مل رہے ہیں اور ان کی ڈی پی سی بھی باقاعدگی سے ہوتی ہے۔ حکومت نے پرائمری اساتذہ کے لیے ایچ ایس ٹی کی آسامیوں کا سلسلہ بھی ختم کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم سردار شاہ نے پانچ اکتوبر کو پرائمری اساتذہ کو بیسویں گریڈ تک ترقی دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، لیکن اس کے لیے پہلے باقاعدہ سروس اسٹرکچر دینا ضروری ہے۔
اساتذہ کا دوسرا اہم مطالبہ ابتدائی تقرری کی تاریخ سے مستقل ملازمت شمار کرنا ہے۔ حکومت ملازمت کے ابتدائی تین سالہ کنٹریکٹ کے عرصے کو سروس میں شامل نہیں کرتی، جس سے ترقی اور گریڈ کی اپ گریڈیشن متاثر ہوتی ہے۔ سندھ میں ایسے سینئر پرائمری اساتذہ بھی موجود ہیں جو اٹھارہ سال خدمات انجام دینے کے باوجود نویں گریڈ میں کام کر رہے ہیں، جبکہ 2022 سے 2025 کے دوران بھرتی ہونے والے نئے اساتذہ چودہویں گریڈ میں تعینات کیے گئے ہیں۔
اساتذہ نے بائیومیٹرک اور تبادلوں کے نظام کو ضلعی سطح پر بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق یہ نظام سندھ سیکریٹریٹ کے تحت منتقل ہونے سے اساتذہ کو مشکلات کا سامنا ہے اور ان کی مرضی اور سہولت کو مدنظر رکھے بغیر دور دراز علاقوں میں تبادلے کیے جاتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ وائس پریزیڈنٹ سائمہ خان نے کہا کہ کلسٹر حب پالیسی کے تحت چھوٹے سرکاری اسکولوں کو بڑے اسکولوں میں ضم کرنے سے پرائمری اساتذہ کی حیثیت اور شناخت متاثر ہو رہی ہے۔
احتجاج میں حیدرآباد، میرپورخاص، جیکب آباد، میرپور ماتھیلو، سکھر اور بے نظیرآباد سمیت سندھ کے مختلف اضلاع سے اساتذہ شریک ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پرائمری اسکولوں کی الگ حیثیت برقرار رکھی جائے، سروس اسٹرکچر متعارف کرایا جائے اور ترقی کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری اور قیادت کی رہائی تک احتجاج جاری رکھا جائے گا اور اسکول بھی نہیں کھولے جائیں گے۔








