کراچی میں سردیوں کے لیے گیس لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول جاری، صارفین مطمئن نہیں
سوئی سدرن گیس کمپنی نے کراچی میں سردیوں کے لیے نیا گیس شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے مطابق گھریلو صارفین کو دن میں صرف تین اوقات میں گیس دستیاب ہوگی، تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ شیڈول کاغذی ہے اور عملی طور پر اس پر عمل نہیں ہوتا۔

کراچی میں موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے گھریلو صارفین کے لیے گیس لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق شہریوں کو چوبیس گھنٹوں کے دوران صرف تین مقررہ اوقات میں ہی گیس فراہم کی جائے گی، جو کھانے پکانے کی ضروریات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
جاری شیڈول کے مطابق ناشتے کے لیے صبح ساڑھے چھ بجے سے نو بجے تک، دوپہر کے کھانے کے لیے بارہ بجے سے ڈھائی بجے تک اور رات کے کھانے کے لیے شام چھ بجے سے رات نو بجے تک گیس دستیاب ہوگی۔ کمپنی نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کھانا پکانے کے امور انہی اوقات کے مطابق ترتیب دیں تاکہ انہیں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایس ایس جی سی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی شکایت یا معلومات کے لیے صارفین ہیلپ لائن 1199 پر رابطہ کر سکتے ہیں یا کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب کراچی کے صارفین نے اس شیڈول پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کاغذ پر جاری کردہ شیڈول عملی طور پر نافذ نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق مقررہ وقت سے پہلے ہی گیس بند کر دی جاتی ہے جبکہ گیس آنے کے وقت بھی تاخیر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں صبح ساڑھے چھ بجے کے بجائے سات بجے کے بعد گیس آتی ہے اور نو بجے سے پہلے ہی بند ہو جاتی ہے۔ دوپہر اور رات کے اوقات میں بھی یہی صورتحال برقرار رہتی ہے۔
متاثرہ صارفین کا کہنا ہے کہ اس بے قاعدگی کے سبب بچوں کا ناشتہ، اسکول کا ٹفن اور رات کا کھانا بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہنگے ایل پی جی سلنڈر خریدنا ہر گھرانے کے بس کی بات نہیں ہے، اس لیے حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ صرف شیڈول جاری کرنے کے بجائے اس پر سختی سے عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے اور جن علاقوں میں گیس کا پریشر کم ہے یا گیس تاخیر سے آتی ہے وہاں فوری اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ ہر سال سردیوں کے موسم میں گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کو لوڈشیڈنگ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گیس کی طلب و رسد کے عدم توازن کو دور کرنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور متبادل توانائی کے ذرائع پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔







