around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 35°☀ لاہور 28°⛅ اسلام آباد 25°
پاکستان

کراچی کے سمندری پانیوں میں پہلی بار 45 فٹ لمبی نایاب اسپرم وہیل ریکارڈ

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے کراچی کے ساحل سے تقریباً 40 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں 45 فٹ لمبی نایاب اسپرم وہیل کا مشاہدہ ریکارڈ کیا ہے، جو سندھ کے ساحلی پانیوں میں اس نوع کی پہلی موجودگی ہے۔

around.pk·1h ago

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے کراچی کے ساحل کے قریب نایاب اسپرم وہیل کی موجودگی کا کامیابی سے مشاہدہ اور ریکارڈ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ وہیل کراچی سے تقریباً 40 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں سمندر میں دیکھی گئی، جس کی لمبائی تقریباً 45 فٹ بتائی گئی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تیکنیکی مشیر محمد معظم خان کے مطابق اسپرم وہیل کا سندھ کے ساحلی سمندر میں یہ پہلا ریکارڈ شدہ مشاہدہ ہے۔ اس سے قبل اس نایاب نوع کی موجودگی صرف بلوچستان کے ساحل کے قریب ریکارڈ کی گئی تھی، اس لیے یہ مشاہدہ پاکستان کی سمندری حیاتیاتی تنوع کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ وہیل ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے بورڈ ممبر زاہد میکر کی سمندری مہم کے دوران دیکھی گئی۔ ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں وہیل کا مخصوص سانس لینے کا سوراخ، جلد کے نشانات اور نمایاں کوہان بھی واضح طور پر قید ہوئے، جو اس نوع کی شناخت کے لیے اہم اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق پاکستان کے سمندری پانیوں میں وہیل اور ڈولفن سمیت سمندری حیات کی غیرمعمولی اقسام پائی جاتی ہیں اور ملکی سمندری حدود میں وہیل اور ڈولفن کی 26 اقسام ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ ان میں بلیو وہیل، برائیڈز وہیل اور عربین سی ہمپ بیک وہیل بھی شامل ہیں، جبکہ ویسٹ بے میں 500 سے زائد ڈولفنز کی موجودگی بھی توجہ حاصل کر چکی ہے۔

اسپرم وہیل اپنی خوراک کی تلاش میں عام طور پر 300 سے 800 میٹر گہرائی تک غوطہ لگاتی ہے اور بعض اوقات ایک سے دو کلومیٹر کی گہرائی تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ تاہم سمندری آلودگی، ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے اور بحری جہازوں سے ٹکرانے جیسے عوامل اس نوع کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے پاکستان کی سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ذمہ دارانہ ماہی گیری کی ضرورت پر زور دیا ہے، اور کہا ہے کہ سمندری حیات کے تحفظ، تحقیق اور نگرانی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے تاکہ ملکی سمندری ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھا جا سکے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں