ہارورڈ کانفرنس میں ماہرین کا پاکستان کی معیشت پر کڑی تنقید، ڈیرون عجم اوغلو نے تین دہائیوں کی جمود کی نشاندہی کی
ہارورڈ یونیورسٹی میں 'From Potential to Performance' کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات ڈیرون عجم اوغلو اور عاطف میاں نے کمزور اداروں، اشرافیہ کی بالادستی اور تعلیم میں کم سرمایہ کاری کو معاشی پسماندگی کی بنیادی وجوہات قرار دیا، جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اصلاحات کا اعتراف کیا۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس 'From Potential to Performance' میں ماہرین معاشیات نے ملک کی معاشی صورتحال پر سخت تحفظات کا اظہار کیا، جس نے معاشی پالیسی پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات پروفیسر ڈیرون عجم اوغلو نے کہا کہ پاکستان کی معیشت گزشتہ تین دہائیوں سے جمود کا شکار ہے اور اس پسماندگی کی بنیادی وجوہات کمزور ادارے، تعلیم پر ناکافی سرمایہ کاری اور ٹیکس وصولیوں کی کم شرح ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے عالمی منظرنامے میں پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث مزید پیچھے رہ جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ کانفرنس میں شریک معروف ماہر معاشیات پروفیسر عاطف میاں نے بھی پاکستان میں اسٹریٹجک وژن کی کمی، اشرافیہ کی بالادستی، غیر مساوی معاشی ترقی اور داخلی امن کے قیام میں ناکامی کو بنیادی مسائل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بجلی پر منتقل کر سکتا ہے، تاہم طاقت ور مفاداتی گروہوں کی مزاحمت اس راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ان تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی معیشت کی رکاوٹوں کے باعث کئی اہم فیصلے برسوں تک مؤخر ہوتے رہے، تاہم اب حکومت ایسے فیصلے کر رہی ہے جنہیں ماضی میں سیاسی طور پر مشکل سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان فیصلوں میں ٹیرف اصلاحات، زرعی آمدن پر ٹیکس اور سرکاری اداروں کی نجکاری شامل ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستان کی تیاریوں کے حوالے سے وزیر خزانہ کا موقف ہے کہ ملک اس سمت میں اہم اقدامات کر چکا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے 2025 میں قومی مصنوعی ذہانت پالیسی منظور کی ہے، جبکہ آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کا اصل مسئلہ پالیسیوں، تجاویز یا مسائل کی نشاندہی کا فقدان نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد میں ناکامی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کو وعدوں اور منصوبوں کے بجائے عملی اقدامات اور مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو طویل جمود سے نکالا جا سکے۔








