یورپ میں سائبر حملے: آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ
یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے بعد متعدد سپر مارکیٹوں کے فریج اور کولنگ سسٹم متاثر ہوئے ہیں، جس سے خوراک کی حفاظت اور فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

یورپ کے کئی ممالک میں حالیہ سائبر حملوں کے نتیجے میں سپر مارکیٹوں کے کولنگ سسٹم متاثر ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آئرلینڈ کے 13 اور بیلجیم کے 15 اسٹورز کے کولنگ نظام خراب ہو گئے، جنہیں ملا کر متاثرہ اسٹورز کی تعداد 28 بنتی ہے۔ ان حملوں سے خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی کے نظام پر منفی اثرات کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ سائبر حملے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ میں بھی مختلف اسٹورز کو متاثر کر چکے ہیں۔ سویڈن میں بعض فریزرز کا درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کولنگ نظام کی خرابی کتنی شدید تھی۔ یورپی حکام نے خوراک کی فراہمی متاثر ہونے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ خوراک کی صنعت کو اس نوعیت کے سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ گزشتہ ماہ فرانس میں بھی سپر مارکیٹوں کے فریج ہیک کیے جانے کے واقعات سامنے آئے تھے۔ اسی طرح کے خطرات کے پیش نظر اسرائیل میں بھی سپر مارکیٹوں اور فوڈ کمپنیوں کو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید سپر مارکیٹیں اپنے کولنگ اور اسٹوریج نظام کو انٹرنیٹ سے منسلک رکھتی ہیں تاکہ درجہ حرارت کی نگرانی اور توانائی کے استعمال کو بہتر بنایا جا سکے، لیکن یہی رابطہ سائبر حملہ آوروں کے لیے ممکنہ راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔ ایسے حملوں کی صورت میں نہ صرف خوراک خراب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ سپلائی چین کے تسلسل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
حالیہ واقعات نے اس بحث کو تقویت دی ہے کہ خوراک کی ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے نظام کو سائبر تحفظ فراہم کرنا کتنا ضروری ہے۔ یورپی ریگولیٹرز اور کمپنیوں کے لیے یہ ایک انتباہ ہے کہ کولنگ انفراسٹرکچر جیسے حساس نظاموں کی حفاظت کو اولین ترجیح بنایا جائے تاکہ صارفین تک محفوظ خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ واقعہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ سائبر خطرات صرف ڈیٹا یا مالیاتی نظام تک محدود نہیں رہے، بلکہ روزمرہ زندگی سے جڑی بنیادی سہولیات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس تناظر میں کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آلاتی نیٹ ورکس کی باقاعدہ جانچ کریں، مضبوط رسائی کنٹرول اپنائیں اور ہنگامی صورتحال کے لیے متبادل منصوبے تیار رکھیں۔










