around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 31°☀ لاہور 27°☀ اسلام آباد 24°
دنیا

افغانستان میں طالبان کی قرنیہ پیوندکاری پر پابندی، سینکڑوں مریضوں کی بینائی خطرے میں

طالبان حکام نے قرنیہ پیوندکاری کے آپریشنز کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے روکنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جس سے ہر سال سینکڑوں افغان شہری بینائی بچانے والے علاج سے محروم ہو جائیں گے۔

around.pk·1h ago

افغانستان میں طالبان حکام نے قرنیہ پیوندکاری کے آپریشنز پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ہر سال سینکڑوں مریض بینائی بچانے والے اس اہم علاج سے محروم رہ سکتے ہیں۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق حکام نے اس طریقہ علاج کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے سرجنز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اس قسم کے آپریشنز فوری طور پر بند کر دیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ اقدام افغانستان میں صحت کی سہولیات تک عوام کی رسائی محدود کرنے کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔ ماہر امراض چشم ڈاکٹر نور زمان ہاشم نے بتایا کہ انہیں زبانی طور پر یہ ہدایت دی گئی، اور کوئی بھی سرجن حکام کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کی ہمت نہیں کر رہا کیونکہ ایسا کرنے پر سخت سزا کا خطرہ موجود ہے۔

قرنیہ پیوندکاری ایک ایسا جراحی عمل ہے جس میں مریض کی خراب یا زخمی آنکھ کی قرنیہ کو عطیہ کی گئی صحت مند قرنیہ سے تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ علاج بینائی بحال کرنے یا اسے مکمل طور پر ختم ہونے سے بچانے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، خصوصاً ان مریضوں کے لیے جن کی آنکھ کی سطح کو شدید نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اس پابندی سے نہ صرف نئے مریضوں کا علاج متاثر ہوگا بلکہ وہ افراد بھی مشکلات کا شکار ہوں گے جن کے آپریشن پہلے ہی طے شدہ تھے۔ افغانستان جیسے ملک میں جہاں صحت کی سہولیات پہلے ہی محدود ہیں، اس فیصلے سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران صحت کے شعبے میں مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن میں خواتین کے لیے طبی تعلیم اور بعض طبی سہولیات تک رسائی کی تحدید شامل ہے۔ ان اقدامات پر بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق کے گروہ تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب افغان عوام کی بڑی تعداد بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہے اور بیشتر افراد علاج کے لیے دور دراز کے علاقوں کا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں سرجنز کی جانب سے قرنیہ پیوندکاری جیسے آپریشنز کا بند ہونا ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے محدود طبی نظام پر پہلے ہی دباؤ زیادہ ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں