امریکہ کا جعلی بحری نیٹ ورک پر پابندیاں، بھارتی شہری اور کمپنیاں نشانہ
امریکی محکمہ خزانہ نے بحری فراڈ کے ذریعے ایرانی تیل کی ترسیل میں ملوث بھارتی جوڑے اور چھ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں، نامزد افراد کے تمام امریکی اثاثے منجمد کر دیے گئے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایک ایسے بحری نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے جو جعلی کمپنیوں اور جعلی بحری دستاویزات کے ذریعے ایرانی تیل کی غیر قانونی ترسیل میں مدد فراہم کر رہا تھا۔ محکمے کے مطابق اس نیٹ ورک کے مرکزی کردار دو بھارتی شہری ہیں جنہوں نے کئی ممالک کے بحری اداروں کی جعلی رجسٹریشن کا بندوبست کیا۔
دفترِ غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) کے تحت سنئیل کمار شرما اور جسپریت پریتی کے نام سے منسلک کم از کم چھ بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ یہ کمپنیاں مبینہ طور پر ان دونوں افراد کی ملکیت میں ہیں یا ان کے زیرِ اثر براہِ راست و بالواسطہ کام کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث جہازوں کو بین الاقوامی قوانین کے دائرے سے بچانے کے لیے جعلی جھنڈوں اور جعلی بحری سرٹیفکیٹس کا سہارا لیا گیا۔ اس طرح پابندیوں سے بچنے کے لیے جہازوں کی شناخت چھپانے اور تجارتی ریکارڈ مسخ کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔
پابندیوں کے نتیجے میں نامزد افراد اور ان سے وابستہ کمپنیوں کے امریکہ میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور انہیں سنگین قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی حکام کے مطابق اب تک ایران اور روس کے ساتھ غیر قانونی تجارت کے سلسلے میں 175 سے زائد بھارتی اداروں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ کارروائی عالمی سطح پر بحری تجارت کی شفافیت اور پابندیوں کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق جعلی رجسٹریشن اور دستاویزی فراڈ بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف پابندیوں کا نظام کمزور ہوتا ہے بلکہ بحری راستوں کی حفاظت بھی متاثر ہوتی ہے۔











