ایران کا قشم جزیرے کے قریب دو مزید امریکی ڈرونز ناکارہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی حکام کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے دو مزید امریکی ڈرونز ناکارہ بنائے ہیں، جس کے بعد قبضے میں آنے والے ڈرونز کی مجموعی تعداد چھ ہو گئی ہے۔

ایران نے اپنے جنوبی ساحل کے قریب قشم جزیرے کے علاقے میں دو مزید امریکی ڈرونز ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ڈرونز الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے غیر موثر کیے گئے ہیں، تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس دعوے کی اب تک کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حال ہی میں اسی نوعیت کے پانچویں اور چھٹے ڈرون کو بھی ناکارہ بنایا گیا ہے۔ ان کے بقول، اس طرح ایرانی فورسز کے قبضے میں آنے والے امریکی ایم کیو ایم 170 ڈرونز کی مجموعی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے مطابق ایرانی فوج نے الیکٹرانک وارفیئر کی مدد سے ان ڈرونز کو اپنے کنٹرول میں لے کر ناکارہ بنایا، جبکہ واقعے کی مزید تفصیلات یا ڈرونز کی موجودہ حالت کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ پیش رفت ایران کے جنوبی ساحلی علاقے میں سامنے آئی ہے، جہاں قشم جزیرہ خلیج فارس کے اہم آبی راستوں کے قریب واقع ہے۔ امریکی ڈرونز سے متعلق ایرانی دعوے خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں، جس نے خلیج فارس کی سلامتی اور بحری تجارت سے متعلق خدشات کو مزید ہوا دی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برسوں میں بھی ایران نے کئی مواقع پر امریکی ڈرونز کو اپنے کنٹرول میں لینے یا ناکارہ بنانے کے دعوے کیے ہیں، تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق عام طور پر نہیں ہو سکی ہے۔ اس نوعیت کے واقعات خطے میں فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی اور فوجی محاذ آرائی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خلیج فارس کے اس اہم جغرافیائی علاقے میں ایسی کارروائیاں بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، اس لیے اس پیش رفت پر عالمی سطح پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے پس منظر میں سفارتی اور دفاعی حلقوں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا اس طرح کے واقعات دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کریں گے یا سفارتی ذرائع سے صورتحال کو قابو میں رکھا جائے گا۔
فی الوقت دونوں فریقین کی جانب سے کوئی مشترکہ بیان سامنے نہیں آیا، اور اس دعوے کی حقیقت کا تعین آزادانہ تصدیق کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔









