ای سی سی کا اجلاس: دفاعی منصوبوں کے لیے 54 ارب اور پروجیکٹ استقلال کے لیے 29 ارب روپے منظور
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دفاعی خدمات، پروجیکٹ استقلال اور آبی وسائل سمیت متعدد منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی، جبکہ کفایت شعاری سے حاصل ہونے والی 15 ارب 62 کروڑ روپے کی بچت وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ میں منتقل کی جائے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں 11 نکاتی ایجنڈے پر غور کے بعد متعدد اہم مالیاتی اور انتظامی فیصلے کیے گئے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ وزارتوں و ڈویژنز کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
کمیٹی نے دفاعی خدمات کے جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی۔ اسی طرح لائن ایج ایل ایل ہزار طیارے کی شمولیت کے لیے ایک ارب 94 کروڑ روپے اور پروجیکٹ استقلال کے لیے 29 ارب 13 کروڑ 90 لاکھ روپے کی الگ الگ گرانٹس بھی منظور کی گئیں۔ حکام کے مطابق ان گرانٹس کا مقصد ضروری آپریشنل تقاضے پورے کرنا اور قومی سلامتی کی ترجیحات کو آگے بڑھانا ہے۔
اجلاس میں وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی سمری پر فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کے ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال کے لیے 37 لاکھ 10 ہزار روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔ اس کے علاوہ وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے مختلف درجات اور بینک ریٹ میں مجوزہ نظرثانی کی منظوری دی گئی تاکہ نوجوانوں کو سستے قرضوں تک بہتر رسائی مل سکے اور کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔
کمیٹی نے کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت کے اقدامات سے حاصل ہونے والی 15 ارب 62 کروڑ 50 لاکھ روپے کی بچت وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کی بھی منظوری دی۔ وزارت آبی وسائل کے تحت اہم آبی منصوبوں کے لیے 275 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی گئی جو آبی بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور جاری منصوبوں پر عمل درآمد میں معاون ثابت ہوگی۔
وزارت تجارت کی سمری پر کیمروں سے لیس اسمارٹ چشموں کی درآمد پر پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری انتظامیہ کو ان آلات کے استعمال کو ضابطے میں لانے کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرنے کی سفارش کی گئی۔ کمیٹی نے ایس این جی پی ایل نظام سے منسلک کھاد کارخانوں فاطمہ فرٹ اور ایگری ٹیک کو 31 دسمبر 2026 تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی منظوری بھی دی، جو مطلوبہ توانائی کی دستیابی سے مشروط ہوگی۔
ای سی سی نے مقررہ شرائط کی تکمیل سے مشروط 89 پٹرولیم حقوق کی توسیع و تجدید کے لیے ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن رولز میں نرمی کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ مالی سال 2026-27 کے دوران گیس پیداواری فیلڈز کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع دیہات کو گیس فراہم کرنے کے لیے ایک ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی تاکہ پیداواری علاقوں کے قریبی دیہات میں قدرتی گیس کی سہولت بہتر بنائی جا سکے۔










