around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
دنیا

برازیل نے فوسل ایندھن سے چھٹکارے کا عالمی روڈ میپ جاری کر دیا

برازیل نے کوئلے، تیل اور گیس پر عالمی انحصار ختم کرنے کے لیے دنیا کا پہلا روڈ میپ جاری کر دیا ہے، جس میں معیشت اور ترقی کو متاثر کیے بغیر فوسل ایندھن سے بتدریج دور ہونے کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

around.pk·2h ago

برازیل نے کوئلے، تیل اور گیس پر دنیا بھر کے انحصار کو ختم کرنے کے لیے ایک جامع روڈ میپ جاری کیا ہے، جس کا مقصد ممالک کو معیشت اور ترقی کو نقصان پہنچائے بغیر فوسل ایندھن سے بتدریج فاصلہ طے کرنے میں مدد دینا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک نے اس نوعیت کا تفصیلی منصوبہ پیش کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی موسمیاتی کانفرنسوں میں محض معاہدوں پر مذاکرات کے بجائے ان پر عملی عمل درآمد پر زور دیا جا رہا ہے۔ برازیل میں ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنس کے سربراہ آندرے کوریا ڈو لاگو کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کو توانائی، مالیات، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق وزارتوں کو عملی اقدامات کے لیے استعمال کرنا چاہیے تاکہ زمینی سطح پر تبدیلی ممکن ہو سکے۔

مجوزہ اقدامات میں تیل اور گیس کی پیداوار کے دوران خارج ہونے والی نقصان دہ گیسوں میں کمی، فوسل ایندھن پر دی جانے والی حکومتی سبسڈی میں کمی اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا شامل ہے۔ اس کے علاوہ صاف توانائی کی جانب منتقلی کے لیے مالی اور تکنیکی تعاون بڑھانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

تاہم ماہرین نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں واضح مدتیں اور اہداف مقرر نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول پیرس معاہدے کے تحت عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو ڈیڑھ ڈگری تک محدود رکھنے کے لیے تبدیلی کی رفتار واضح ہونا ضروری ہے، ورنہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو گا۔

واضح رہے کہ برازیل نے جنگلات کی کٹائی روکنے کے لیے بھی ایک الگ منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 2030 تک جنگلات کے تحفظ کے لیے سالانہ 300 ارب ڈالر جبکہ 2050 تک 500 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جبکہ اس وقت دستیاب عالمی مالی معاونت تقریباً 85 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ یہ صورتحال مالی وسائل کی کمی کو اجاگر کرتی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ فوسل ایندھن سے چھٹکارے کا یہ روڈ میپ اگرچہ اہم پیش رفت ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار ممالک کی سیاسی مرضی اور مالی تعاون پر ہے۔ عالمی برادری کو ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اور وقتی اقدامات کرنے ہوں گے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں