around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
دنیا

مشرقِ وسطیٰ: سفارت کاری اور عسکری تصادم کے درمیان فیصلہ کن مرحلہ قریب

مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت جنگ بندی اور مذاکرات کے امکانات کے ساتھ ساتھ عسکری تیاریوں اور جوہری تصادم کے خدشات بھی موجود ہیں، جہاں قطر کی ثالثی اور اسرائیل کی اندرونی سیاسی تبدیلیاں خطے کے مستقبل کا رخ متعین کر سکتی ہیں۔

around.pk·1h ago

مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات کے امکانات روشن ہیں تو دوسری جانب عسکری تیاریوں، دھمکیوں اور جوہری تصادم کے خدشات نے عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ واشنگٹن کے متضاد اشارے، تل ابیب کی جنگی حکمت عملی، تہران کا مزاحمتی مؤقف اور خلیجی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات واضح کرتے ہیں کہ یہ تنازع اب صرف امریکا، اسرائیل اور ایران کی طاقت آزمائی تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئیووا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ بہت جلد ختم ہو سکتی ہے، تاہم تہران کو معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ امریکا سخت کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کے اس بیان میں انسانی جانیں بچانے کی خواہش بھی موجود ہے اور طاقت کے استعمال کی دھمکی بھی، جو فیصلہ سازی میں موجود غیر یقینی کیفیت کو نمایاں کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سفارت کاری کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ فریقین کو عزتِ نفس، قومی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہوئے مشترکہ حل تک پہنچنے کا موقع فراہم کیا جائے، کیونکہ یک طرفہ مطالبات اور مسلسل دھمکیوں پر مبنی معاہدہ پائیدار نہیں رہ سکتا۔

امریکی پالیسی سازوں کے سامنے محدود فضائی حملوں سے لے کر کئی ہفتوں پر محیط فضائی مہم، ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی سمیت مختلف امکانات زیرِ غور ہیں، جبکہ سفارتی راستہ اختیار کرنے کا امکان بھی فہرست میں شامل ہے۔ ادھر اسرائیلی سیاست میں بھی تبدیلی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، جہاں حالیہ انتخابات کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے حمایت کا اعلان کیا ہے اور عرب جماعتوں کے ممکنہ تعاون سے نئی حکومت بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم یہ توقع کرنا قبل از وقت ہوگا کہ حکومت کی تبدیلی لازماً ایران کے ساتھ کشیدگی ختم کر دے گی، کیونکہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آئندہ قیادت خطے کو مسلسل عسکری برتری کے تناظر میں دیکھتی ہے یا سیاسی مفاہمت کو بھی اپنی حکمت عملی کا حصہ بناتی ہے۔

یمن میں حوثی گروہ کی پیش قدمی نے بحران کو ایک اور خطرناک سمت دے دی ہے۔ المقاطرہ ضلع پر قبضے کے بعد حوثی جنگجو عدن سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ چکے ہیں اور عدن و تعز کو ملانے والی اہم شاہراہ کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات اور دمام ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے دعوے خلیجی ممالک کی سلامتی کے بارے میں تشویش بڑھا رہے ہیں، جبکہ خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی عدن کی جانب پیش قدمی اور اس کے علاقائی اثرات کی تصدیق کی ہے۔

ایسے سنگین حالات میں قطر کی ثالثی کوششیں خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ قطری وفد کی تہران آمد اور امریکا و ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے ترمیم شدہ مسودے پر مشاورت اس امر کا اشارہ ہے کہ تمام تر کشیدگی کے باوجود سفارتی راستے بند نہیں ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات میں آبنائے ہرمز، حملوں کی روک تھام اور امریکی بحری ناکہ بندی جیسے امور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ کامیاب مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ امریکا ایران کی سلامتی اور خودمختاری سے متعلق تحفظات کو سنجیدگی سے سنے، جبکہ ایران بھی خطے کے ممالک اور عالمی تجارت کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے قابلِ عمل ضمانتیں فراہم کرے۔

جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات عالمی امن کے لیے سنجیدہ انتباہ ہیں، تاہم ایسی مبینہ منصوبہ بندی کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے اور اسے کسی حتمی امریکی فیصلے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ عالمی طاقتوں، اقوام متحدہ اور علاقائی ممالک کی ذمے داری ہے کہ وہ کسی بھی جوہری تصادم کے امکان کو روکنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں تیز کریں۔ پاکستان سمیت خطے کے وہ ممالک جو جنگ کے معاشی، سلامتی اور انسانی اثرات سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں، انہیں بھی امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ ایران کے ساتھ طویل سرحد، خلیجی ممالک سے اقتصادی روابط اور خطے میں امن و استحکام کے مفادات پاکستان کو اس بحران سے لاتعلق رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں