around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
دنیا

افغانستان میں قرنیہ پیوندکاری پر پابندی، ہزاروں مریضوں کی بینائی خطرے میں

افغان طالبان حکومت نے آنکھوں کے قرنیے کی پیوندکاری کے آپریشنز روکنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جس سے ہزاروں مریضوں کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

around.pk·1h ago

افغانستان میں طالبان حکومت نے آنکھوں کے قرنیے کی پیوندکاری کے تمام آپریشنز روکنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ماہرین امراض چشم کے مطابق یہ احکامات زبانی طور پر دیے گئے ہیں اور حکام کا موقف ہے کہ انسانی اعضاء کی پیوندکاری اسلامی شریعت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس فیصلے سے ایسے مریضوں کی بڑی تعداد متاثر ہوگی جن کی بینائی کا انحصار اس طریقہ علاج پر ہے۔

معروف ماہر امراض چشم ڈاکٹر نورزمان ہاشم نے ایک برطانوی اخبار کو بتایا کہ اگر قرنیہ پیوندکاری کے آپریشنز مکمل طور پر بند کر دیے گئے تو سیکڑوں ہزاروں افراد کی بینائی ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے۔ افغانستان میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی احکامات کی پاسداری پر مجبور ہیں، جس سے مریضوں کے علاج کے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں قرنیہ فراہم کرنے کے لیے امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم اے پی این اے اور پاکستانی غیر سرکاری تنظیم ظفر میر فاؤنڈیشن نے مقامی ڈاکٹروں کی تربیت اور مختلف ممالک سے عطیات کی فراہمی کا انتظام کیا تھا۔ اس پابندی کے بعد یہ پروگرام جاری نہیں رہ سکے گا، جس سے عطیہ شدہ قرنیوں کی دستیابی اور تربیت یافتہ عملے کی کارکردگی دونوں متاثر ہوں گی۔

انسانوں کے اعضاء کی پیوندکاری کے جواز پر ماضی میں بعض مسلم معاشروں میں بحث ضرور ہوئی، تاہم متعدد نامور علماء اور طبی ماہرین نے جان بچانے کے لیے پیوندکاری کو جائز قرار دیا۔ پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس عمل کو جائز قرار دے چکی ہے، جبکہ سعودی عرب، ایران، ترکیہ اور مصر جیسے ممالک میں اعضاء کی پیوندکاری کو معمول کا طبی طریقہ علاج سمجھا جاتا ہے اور اس پر کوئی نمایاں اختلاف موجود نہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں سالانہ دو ہزار سے زائد اور ایران میں تقریباً چار ہزار اعضاء کی پیوندکاری کے آپریشن کیے جاتے ہیں، جن میں گردے اور جگر کی پیوندکاری شامل ہے۔ پاکستان میں بھی قرنیہ پیوندکاری کا آغاز ستر کی دہائی میں ہو چکا تھا اور مختلف اسپتالوں میں یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے، جہاں قرنیے عموماً سری لنکا سے بلا معاوضہ حاصل کیے جاتے ہیں۔

طالبان کے اس فیصلے نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں انسانی بہبود اور جدید طبی سہولیات کو محدود کر رہی ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کے احکامات عوامی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں، جبکہ ماہرین کا اصرار ہے کہ اعضاء کی پیوندکاری اسلامی تعلیمات اور طبی اصولوں کے عین مطابق ایک جائز اور ضروری علاج ہے جسے انسانی جان بچانے کے لیے جاری رہنا چاہیے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں