جمرود میں پولیو سپروائزر اغوا، پولیس کی بھاری نفری تعینات
خیبر ضلع کے علاقے جمرود میں انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو سپروائزر جلیل خان کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا، پولیس نے اہم راستوں پر ناکہ بندی کر کے تلاش شروع کر دی۔

خیبر ضلع کے علاقے جمرود کی تحصیل چپری میں انسداد پولیو مہم کے دوران ایک پولیو سپروائزر کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ ضلعی پولیس سربراہ وقار احمد کے مطابق سپروائزر جلیل خان ڈیوٹی کے دوران اغوا ہوئے اور ملزمان انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور مغوی کی بازیابی کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ضلع بھر میں داخلے اور خروج کے اہم راستوں پر ناکے لگا دیے گئے ہیں تاکہ اغوا کرنے والے افراد کو روکا جا سکے۔
ڈی پی او نے بتایا کہ مغوی سپروائزر کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش کے ابتدائی مراحل جاری ہیں اور واقعے کے پس منظر کا تعین کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ضلع خیبر سمیت صوبے بھر میں گزشتہ روز سے سات روزہ انسداد پولیو مہم جاری ہے، جس کے دوران محکمہ صحت کے کارکن گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہے ہیں۔ اس مہم میں سیکیورٹی کے انتظامات کے تحت پولیس اہلکاروں کی تعیناتی بھی کی گئی ہے۔
واقعے نے علاقے میں پولیو کارکنوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا ہے۔ قبل ازیں بھی پولیو مہم کے دوران کارکنوں کو مختلف خطرات کا سامنا رہا ہے، جس کے پیش نظر حکام ہر مہم کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہیں۔
پولیو پاکستان میں صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے اور ملک بھر میں اس کی روک تھام کے لیے بار بار مہمات چلائی جاتی ہیں۔ حکام کی جانب سے کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور مہم کے پرامن انعقاد کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک افراد یا گاڑیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں تاکہ مغوی سپروائزر کی جلد بازیابی ممکن ہو سکے۔ مزید تفصیلات کی توقع ہے۔









