around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 22°☀ لاہور 18°☀ اسلام آباد 17°
کاروبار

حکومت کا ایل پی جی کا صوابدیدی کوٹہ ختم کرنے اور مسابقتی درآمد کھولنے کا اعلان

وفاقی حکومت نے ایل پی جی مارکیٹ میں اجارہ داری ختم کرتے ہوئے درآمد کو مسابقت کی بنیاد پر کھولنے اور پرانے صوابدیدی کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا اعلان کیا ہے، وزیر اطلاعات نے کہا کہ چند افراد نے مارکیٹ میں 800 روپے کلو تک قیمت وصول کی۔

around.pk·3h ago

وفاقی حکومت نے ملک میں لیکوڈ پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمد کو مسابقت کی بنیاد پر کھولنے اور طویل عرصے سے رائج صوابدیدی کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایل پی جی سیکٹر میں چند افراد کی اجارہ داری قائم تھی جس کا فائدہ مارکیٹ میں شرارتی عناصر نے اٹھایا اور صارفین سے 800 روپے فی کلو تک قیمت وصول کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب اس شعبے میں مقابلہ کو فروغ دیا جائے گا تاکہ قیمتوں میں حقیقی کمی آ سکے اور صارفین کو براہ راست فائدہ پہنچے۔

دونوں وزراء نے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور حکومت اس کا اثر عوام تک ریلیف کی صورت میں منتقل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار آئل ریفائنریوں کے منافع کو عوام کی فلاح پر خرچ کیا گیا اور قیمتوں میں سبسڈی دی گئی، جبکہ اوگرا نے بھی اپنی ویب سائٹ پر مکمل تفصیلات شائع کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ شوگر سیکٹر نے پہلی بار ٹیکس کی مد میں 60 ارب روپے کا اضافی ریونیو جمع کرایا، جو حکومت کی ساختی اصلاحات اور نظام میں شفافیت لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حکومت نے سردیوں میں گیس کی فراہمی کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے اور تمام وزراء کو ریلیف کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

پٹرولیم لیوی کے معاملے پر وزیر اعظم کی خصوصی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ مشکل حالات کے باوجود عارضی طور پر اس میں کمی کی گئی تاکہ عوام پر بوجھ کم ہو۔ حکومت نے جماعت اسلامی پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی تجاویز اور ممکنہ حل تکنیکی بنیادوں پر پیش کرے، جہاں بھی عوام کو ریلیف دینے کی گنجائش ہو گی وہاں اقدامات کیے جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق ایل پی جی درآمد میں مسابقت کے فروغ سے مارکیٹ میں نئے کھلاڑیوں کو مواقع ملیں گے، جس سے سپلائی چین بہتر ہو گی اور قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے۔ تاہم حتمی اثرات کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ نئی پالیسی پر عملدرآمد کتنی تیزی اور شفافیت سے کیا جاتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں