دماغی سرطان کے علاج کے لیے نئی تجرباتی تکنیک تیار
امریکی محققین نے گلیوبلاسٹوما کے علاج کے لیے جینیاتی مالیکیولز، نینو پارٹیکلز اور فوکسڈ الٹراساؤنڈ پر مبنی نئی تجرباتی تکنیک تیار کی ہے جو دماغ کی حفاظتی رکاوٹ عبور کرکے دوا براہِ راست سرطان زدہ خلیوں تک پہنچا سکتی ہے۔

امریکی محققین نے دماغ کے خطرناک ترین سرطان گلیوبلاسٹوما کے علاج کے لیے ایک نئی تجرباتی تکنیک تیار کی ہے جسے طبی حلقوں میں دماغی سرطان کے علاج کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف ورجینیا کے کمپریہینسیو کینسر سینٹر کے سائنس دانوں نے مکمل کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس طریقے میں خصوصی جینیاتی مالیکیولز، نینو پارٹیکلز اور فوکسڈ الٹراساؤنڈ ٹیکنالوجی کو مشترکہ طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس تکنیک کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ یہ دماغ کی حفاظتی رکاوٹ کو عارضی طور پر عبور کرکے علاج کو براہِ راست سرطان زدہ خلیوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو روایتی طریقوں میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ راجر ایبونیڈر کے مطابق یہ نیا طریقہ بیک وقت سرطان کی افزائش میں کردار ادا کرنے والے متعدد جینیاتی عوامل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ علاج زیادہ مؤثر ثابت ہو اور سرطان کے خلیوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس تحقیق کو آئندہ برسوں میں کلینیکل ٹرائلز کے مرحلے تک پہنچایا جائے گا، جس سے گلیوبلاسٹوما کے علاوہ دماغی رسولیوں میں مبتلا دیگر مریضوں کے علاج کے لیے بھی نئے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کی پیش رفت دماغی سرطان کے علاج میں طویل عرصے سے جاری تعطل کو توڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ طریقہ تاحال تجرباتی مرحلے میں ہے اور اس کی افادیت اور حفاظت کا مریضوں پر ثبوت باقی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تحقیقات کے مثبت نتائج سامنے آنے تک مریضوں کو موجودہ منظور شدہ علاج کے طریقوں ہی پر انحصار کرنا چاہیے۔
گلیوبلاسٹوما دماغی سرطان کی انتہائی جارح نوعیت کی قسم ہے جس کا علاج روایتی طور پر بہت مشکل سمجھا جاتا ہے۔ اس نئی تحقیق نے عالمی سطح پر طبی تحقیق کے شعبے میں توجہ حاصل کی ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں اس تکنیک کو مزید مؤثر اور محفوظ بنایا جا سکے گا۔










