around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 19°☀ اسلام آباد 16°
پاکستان

افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا مؤقف: قومی سلامتی اور سفارتی راستے

افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ سفارت کاری کے دروازے کھلے رہیں، لیکن کامیابی کا انحصار ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات پر ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں 4,700 سے زائد پاکستانیوں کی ہلاکت اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

around.pk·2h ago

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں موجود کشیدگی محض دو ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی تنازع نہیں، بلکہ یہ خطے کے امن، معاشی استحکام اور انسانی سلامتی سے جڑا ہوا پیچیدہ معاملہ ہے۔ اس مسئلے کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی پالیسی پر نظر ثانی کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی، جبکہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا سب سے زیادہ نقصان خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے پہاڑوں، وادیوں اور سرحدی بستیوں میں امن کی واپسی اب محض انتظامی ضرورت نہیں، بلکہ ریاستی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کا بنیادی تقاضا بن چکی ہے۔

پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات، سفارتی رابطے اور بین الاقوامی تعاون کے تمام راستے کھلے رہنے چاہئیں، تاہم ان کوششوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستانی نمائندے نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 4,700 سے زائد پاکستانی شہید ہوئے۔ یہ اعداد و شمار محض سفارتی بیان کا حصہ نہیں، بلکہ ان خاندانوں کی محرومیوں اور اجڑے گھروں کی حقیقت ہے جنہیں دہشت گردی نے براہِ راست متاثر کیا۔

افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو توقع تھی کہ دونوں ملکوں کے تاریخی، مذہبی، تہذیبی اور جغرافیائی رشتے باہمی تعاون کی نئی بنیاد فراہم کریں گے۔ پاکستان نے افغان عوام کی میزبانی، پناہ گزینوں کی طویل دیکھ بھال اور تجارت و علاقائی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق مسلسل اطلاعات نے ان توقعات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، کیونکہ ان تنظیموں کو افغان سرزمین پر پناہ اور کارروائیوں کی گنجائش حاصل ہے۔

اس تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا یہ بیان اہم سفارتی پیش رفت ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے تحفظات سے آگاہ ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے پر آمادہ ہے۔ پاکستان نے دوست ممالک کی ثالثی اور سہولت کاری کا خیرمقدم کیا ہے، مگر دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ قطر، ترکیہ، چین اور دیگر علاقائی قوتیں بھی اس سلسلے میں کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن ثالثی اسی وقت مؤثر ہوگی جب کابل دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کی ضمانت دے۔

سفارتی محاذ پر پاکستان کو اپنی دلیل بین الاقوامی قانون، شواہد اور شہریوں کے تحفظ کے اصولوں کے مطابق مضبوط رکھنی ہوگی۔ عسکری کارروائی بعض حالات میں فوری خطرے کو کم کر سکتی ہے، لیکن مستقل امن کا راستہ مؤثر سرحدی نگرانی، خفیہ معلومات کے تبادلے، دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خاتمے اور دونوں ملکوں کے درمیان قابلِ عمل رابطہ نظام سے ہوکر گزرتا ہے۔

داخلی سطح پر خیبرپختونخوا میں امن و امان کا مسئلہ بھی سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے، جہاں دہشت گردی کے پھیلاؤ میں مقامی سہولت کاری، کمزور انتظامی نگرانی اور پولیس و انسداد دہشت گردی اداروں کی استعداد اہم عوامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے صوبے میں غیر معمولی انتظامی اقدامات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مشترکہ کوششوں کی دعوت دی ہے۔ ماہرین کے مطابق قومی سلامتی کے تقاضے، عوامی نمائندگی، بنیادی حقوق اور جمہوری اداروں کا تسلسل بھی ریاستی استحکام کے لازمی اجزا ہیں، اور کسی غیر معمولی انتظام کو مستقل سیاسی بندوبست میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

افغانستان کی داخلی صورت حال اس بحران کو ایک وسیع تر انسانی مسئلے سے بھی جوڑتی ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے افغان خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں، تعلیم و روزگار کے مواقع کی بندش اور بنیادی آزادیوں میں مسلسل کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے بھی اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کے فورمز پر اس معاملے کو اجاگر کیا ہے۔ ایسے معاشرے میں جہاں نصف آبادی کی صلاحیتوں کو محدود کر دیا جائے، وہاں معاشی ترقی اور سماجی استحکام کا سفر بھی متاثر ہوتا ہے۔

دریں اثنا امریکا کی جانب سے 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان بھیجنے کی اطلاعات نے ایک اور پیچیدہ انسانی اور سفارتی پہلو سامنے رکھ دیا ہے۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل بتائے گئے ہیں جو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکا پہنچے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بعض افراد کو واپسی پر انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے یہ مؤقف بھی اہم ہے کہ افغان حکومت کو اپنے شہریوں کو وصول کرنا چاہیے اور اس تاثر کی نفی کرنی چاہیے کہ واپس آنے والے افغان شہریوں کو حکومت کی جانب سے انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں