پاکستان میں سیاسی مخالفین سے سلوک کی تاریخ: مارشل لا سے لے کر آج تک
ایک تجزیاتی نگاہ ڈالیں تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مخالفین کے ساتھ سلوک کا ریکارڈ متنازع رہا ہے۔ ایوب خان کے دور سے لے کر موجودہ وقت تک مختلف حکومتوں نے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنایا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مخالفین کے ساتھ سلوک کا معاملہ ہمیشہ بحث کا مرکز رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ملک میں سیاسی اختلافات کو اکثر غیر سیاسی طریقے سے نمٹایا گیا، جس کی شروعات مارشل لا کے دور سے ہوئیں جب ایبڈو قانون کے تحت بڑی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد تھی اور صرف سرکاری کنونشن مسلم لیگ کو کھلی سیاست کی اجازت دی گئی تھی۔ اس دور میں حکومت مخالف کونسل مسلم لیگ، جماعت اسلامی، عوامی لیگ، نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام جیسی جماعتیں بھی موجود تھیں۔
ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان کے قابل اعتماد وزیر سمجھے جاتے تھے، لیکن انہوں نے بعد میں وزارت چھوڑ کر 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1968 میں ایوب حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کے دوران مخالفین کی سیاسی گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ 1969 میں جنرل یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا اور 1970 کے عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو آزادی دی، تاہم نتائج پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اسی دور میں مشرقی پاکستان میں اکثریت حاصل کرنے والے شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار منتقل کرنے کے بجائے گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد ملک ٹوٹنے کا سانحہ پیش آیا۔
ملک کی تقسیم کے بعد ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم بنے، جن کی پارٹی کے پاس سندھ اور پنجاب میں حکومتیں تھیں۔ انہوں نے بعد ازاں سرحد اور بلوچستان میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومتیں قائم کیں اور اپنی مخالفت پر نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ ولی خان کو گرفتار کر کے پارٹی پر پابندی عائد کر دی۔ 1977 کے متنازعہ انتخابات کے بعد ملک گیر تحریک چلی تو پیرپگاڑا کے سوا تقریباً تمام سیاسی قائدین کو جیلوں میں بند کر دیا گیا۔
بھٹو حکومت جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے نتیجے میں ختم ہوئی اور وزیر اعظم بھٹو خود گرفتار ہوئے۔ بعد کے ادوار میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی حکومتوں میں بھی سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو برطرف کر کے انہیں ہتھکڑیاں لگا کر کراچی منتقل کیا اور ان کا پورا خاندان گرفتار کیا گیا، جس کے بعد نواز شریف جلاوطنی پر مجبور ہوئے۔
2008 سے 2018 تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے باہمی محاذ آرائی سے گریز کیا اور اپنی مدتیں پوری کیں، تاہم دونوں جماعتوں کے وزرائے اعظم عدالتی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں بھی مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کو سیاسی انتقام قرار دیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بڑی سیاسی جماعتیں ماضی کے تجربات سے سبق سیکھیں تو مخالفین سے انتقامی سلسلہ ختم کیا جا سکتا ہے اور ملک میں سیاسی استحکام کو فروغ مل سکتا ہے۔









