around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 19°☀ اسلام آباد 16°
پاکستان

پارلیمنٹ میں سیاسی گرما گرمی: مولانا فضل الرحمن اور محسن نقوی کی تقاریر پر بحث

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حالیہ سیاسی تقاریر اور ردعمل نے سیاسی تجزیہ کاروں کو نئے بحث کی طرف راغب کیا ہے، جہاں مولانا فضل الرحمن کے دہشت گردی کے خلاف موقف اور محسن نقوی کے تبصرے نمایاں رہے۔

around.pk·2h ago

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حالیہ دنوں میں ایسی سیاسی گرما گرمی دیکھنے میں آئی جس نے ملکی سیاسی فضا کو ہرار کر دیا۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، خواجہ آصف اور محسن نقوی کی تقاریر اور ایک دوسرے پر تنقید نے ایوان کی کارروائی کو دلچسپ بنا دیا۔ تاہم سیاسی مبصرین نے جلد بازی میں یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ پرانے سیاسی اتحاد درہم برہم ہو چکے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔

رانا ثنا اللہ کے حالیہ بیان نے ان تجزیوں کی بنیاد ہلا دی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان تعلقات ختم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ میاں نواز شریف مولانا کا بھرپور احترام کرتے ہیں۔ اسی طرح محسن نقوی کے ’بوسیدہ سسٹم‘ کے بیان کو بھی غلط معنوں میں لیا گیا، حالانکہ اس کا تعلق صوبائی اور بلدیاتی نظام کی کمزوریوں سے تھا، نہ کہ وفاقی حکومت سے عدم اعتماد سے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد اس بات پر متفق ہے کہ سیاست میں ظاہری اختلافات کو حتمی سمجھ لینا درست نہیں۔ جیسا کہ سینئر صحافی نجم سیٹھی نے بھی اشارہ دیا ہے کہ کائٹ فلائنگ کی ضرورت نہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ آئندہ دنوں میں 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے محسن نقوی اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان اتفاق رائے بھی قائم ہو جائے۔ سیاست میں مفادات کے بدلتے رخ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں انتہائی اہم نکتہ اٹھایا کہ ان کی جماعت اور کارکنان دہشت گردی کے نشانے پر رہے ہیں اور سیکڑوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی بھی آپریشن میں شریک نہیں ہوں گے۔ اس اہم بیان کو ذرائع ابلاغ نے مناسب توجہ نہیں دی اور محض سیاسی تنازعات کو نمایاں کیا۔

اس واقعے نے ابلاغیات کے ایک اہم اصول کی جانب توجہ دلائی ہے کہ خبروں کی پیشکش میں سیاق و سباق کو نظر انداز کرنا اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی بیانات کو مکمل تناظر میں پیش کریں تاکہ عوام کے سامنے حقیقت واضح ہو سکے۔ صحافت کے شعبے کو درپیش چیلنجز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سنسنی خیزی کے بجائے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو ترجیح دی جائے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی قیادت کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ ریاستی اداروں کے بارے میں بھی شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، جو طویل مدتی طور پر جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافتی حلقے اور سیاسی تجزیہ کار واقعات کی گہرائی میں جا کر حقیقت کو سامنے لائیں اور قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں