around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 19°☀ اسلام آباد 16°
پاکستان

آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں، جسٹس عامر فاروق کا اہم فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اس پر لازم نہیں ہوتے، تاہم ان کی قانونی حیثیت رہنمائی کی حامل ہے اور قانون و آئین سے مطابقت رکھنے والے اصولوں پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

around.pk·1h ago

وفاقی آئینی عدالت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔ یہ بات جسٹس عامر فاروق نے آئینی عدالت کے نظرثانی اور اپیل کے اختیار سے متعلق آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہی ہے۔

فیصلے کے مطابق آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے کی پابند نہیں ہے، تاہم ان فیصلوں کی قانونی حیثیت رہنمائی کی حامل ہے۔ جہاں سپریم کورٹ کی جانب سے وضع کردہ قانونی اصول قابلِ قبول ہوں یا قانون اور آئین سے مطابقت رکھتے ہوں، وہاں ان پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹس کے فیصلوں اور احکامات کے خلاف اپیل سے متعلق سپریم کورٹ کی جانب سے وضع کردہ قانونی اصول آئینی عدالت کے لیے لازمی نہیں ہیں، البتہ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے قانونی اصولوں اور عدالتی نظائر سے رہنمائی حاصل کر سکتی ہے۔

تحریری فیصلے میں حالیہ رجحانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درخواست گزار اور وکلا نظرثانی کے اختیار کو مقدمے پر دوبارہ بحث کرنے کا ایک اور موقع سمجھنے لگے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران بینچ کسی مقدمے کی دوبارہ سماعت نہیں کرتا بلکہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ آیا عدالتی ریکارڈ میں کوئی واضح غلطی یا خامی موجود ہے جو بظاہر نظر آتی ہو۔

یہ فیصلہ عدالتی نظام میں آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ کار اور اختیارات کے حوالے سے ایک اہم وضاحت ہے، جو آئندہ کی قانونی کارروائیوں کے لیے رہنمائی فراہم کرے گی۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ آئینی عدالت کے دائرہ اختیار کو واضح کرنے اور نظرثانی کی درخواستوں کے غلط استعمال کو روکنے کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں