دیسی گھی خریدنے سے پہلے: خالص اور ملاوٹ شدہ گھی میں فرق کیسے پہچانیں؟
ماہرینِ غذائیت کے مطابق صرف خوشبو، رنگ یا دانے دار ساخت سے گھی کی خالصیت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا؛ پیکنگ پر درج اجزا، دودھ کا ذریعہ اور لیبل کی معلومات ضرور دیکھیں۔

دیسی گھی پاکستانی گھروں میں کھانوں کا ذائقہ بڑھانے کے لیے صدیوں سے استعمال ہوتا رہا ہے، لیکن بازار میں دستیاب مختلف برانڈز کی بھرمار نے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا خریدا گیا گھی واقعی خالص ہے یا اس میں کسی دوسرے تیل یا چکنائی کی ملاوٹ شامل کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف پیکنگ پر لکھے گئے خالص ہونے کے دعوے سے گھی کی اصلیت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ خریداری کے وقت کچھ بنیادی باتوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق دیسی گھی بنیادی طور پر مکھن کو گرم کر کے اس میں موجود پانی اور دودھ کے زیادہ تر ٹھوس اجزا الگ کرنے سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں گھی میں وٹامن اے، ای اور کے سمیت چکنائی میں حل ہونے والے بعض دیگر غذائی اجزا موجود ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ دیسی گھی میں سیر شدہ چکنائی اور کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اسے اعتدال میں استعمال کرنا ہی صحت کے لیے بہتر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف گھی کی خوشبو، رنگ یا دانے دار ساخت دیکھ کر اس کے خالص ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ملاوٹ کرنے والے عناصر ان خصوصیات کو مصنوعی طریقے سے بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے خریداروں کو چاہیے کہ وہ پروڈکٹ کے اجزا کی فہرست کو غور سے پڑھیں اور یقینی بنائیں کہ اس میں گھی کے علاوہ کوئی دوسری چکنائی یا تیل شامل نہ ہو۔
گھی خریدتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ برانڈ واضح طور پر بتائے کہ گھی گائے کے دودھ سے تیار کیا گیا ہے یا بھینس کے دودھ سے، کیونکہ دودھ کے معیار اور ذریعے کا براہ راست تعلق مصنوعات کے معیار سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پیکنگ پر مینوفیکچرنگ کی تاریخ، ایکسپائری تاریخ اور متعلقہ فوڈ اتھارٹی کی معلومات ضرور دیکھنی چاہیے تاکہ کسی غیر معیاری یا ملاوٹ شدہ مصنوعات کے استعمال سے بچا جا سکے۔
یاد رہے کہ دیسی گھی کی خالصیت کا تعین صرف ایک علامت سے نہیں بلکہ متعدد عوامل کو ملا کر کیا جاتا ہے۔ صارفین اگر خریداری کے دوران اجزا کی فہرست، دودھ کے ذریعے اور لیبل کی مکمل معلومات پر توجہ دیں تو وہ کافی حد تک ملاوٹ شدہ مصنوعات سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور اپنے کھانوں میں معیاری اور صحت بخش گھی استعمال کر سکتے ہیں۔
ماہرین کی یہ ہدایات خاص طور پر ان صارفین کے لیے اہم ہیں جو اپنے گھر میں دیسی گھی کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔ درست معلومات کی بنیاد پر کی گئی خریداری نہ صرف صحت بلکہ جیب کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ملاوٹ شدہ مصنوعات اکثر اصل گھی کی قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔











