around.pk
Thursday, 5 November 2026
⛅ کراچی 28°☀ لاہور 23°☀ اسلام آباد 18°
پاکستان

سینیٹر کامران مرتضیٰ کی تحریک استحقاق: گھر پر 40 افراد کے حملے اور خواتین و بچوں کی ہراسانی کا انکشاف

جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سینیٹ کی استحقاق کمیٹی میں تحریک استحقاق جمع کروا دی ہے، جس میں انہوں نے اپنے گھر پر 40 افراد کے حملے، خواتین اور بچوں کی ہراسانی اور حملہ آوروں کی جانب سے شناخت ظاہر نہ کرنے کا انکشاف کیا ہے۔

around.pk·2h ago

جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سینیٹ آف پاکستان کی استحقاق کمیٹی میں تحریک استحقاق جمع کروا دی ہے، جس میں انہوں نے اپنے ذاتی گھر پر تقریباً چالیس افراد کے حملے اور گھر میں موجود خواتین و بچوں کی ہراسانی کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ تحریک کے مطابق یہ واقعہ چار نومبر کو پیش آیا، جب نامعلوم افراد نے ان کے گھر نمبر 70-D، سنگل ہاؤسنگ اسکیم کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا۔

سینیٹر نے تحریک استحقاق میں بتایا کہ حملہ آوروں نے گھر کے مرکزی دروازے پر لاتیں ماریں اور دیواروں پر چڑھ کر گھر کے اندر کی تصاویر بنائیں۔ شور و شرابے پر محلے کے لوگ اکٹھے ہوئے تو کچھ طلبہ نے اپنے موبائل کیمروں سے ویڈیو بنانے کی کوشش کی، جس پر ان افراد نے انہیں روک دیا۔ اس کے بعد یہی گروہ سینیٹر کے آبائی گھر نمبر D-22 کا رخ کر گیا، جو ان کے موجودہ گھر سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔

تحریک میں مزید کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے آبائی گھر کے دروازوں کو بھی لاتیں ماریں اور چھت پر چڑھ گئے۔ اس وقت گھر میں سینیٹر کے چھوٹے بھائی عدنان کے علاوہ خواتین اور بچے بھی موجود تھے۔ سینیٹر کے بھائی نے ان افراد سے شناخت اور بلا وجہ ہراسانی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے اپنی شناخت بتانے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کہنے پر آئے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے تحریک میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سینیٹ آف پاکستان کے رکن اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں، اس کے باوجود ان کے گھر پر حملہ کیا گیا اور گھر میں موجود خواتین و بچوں کو ہراساں کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ایک پارلیمنٹرین اور سینئر وکیل کے گھر کے ساتھ یہ سلوک ہو سکتا ہے تو ایک عام اور غریب پاکستانی شہری کا کیا حال ہوگا۔

سینیٹر نے استحقاق کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تحریک کو متعلقہ کمیٹی کے حوالے کیا جائے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ ایوان میں پیش کی جا سکے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں شہریوں کی سلامتی، رہائشی علاقوں میں غیر متعلقہ افراد کی آمد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نام پر کارروائیوں کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق سینیٹ کی استحقاق کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اراکین کیخلاف سامنے آنے والے واقعات کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کی نشاندہی کرے۔ اس تحریک کی منظوری اور کمیٹی کے حوالے کیے جانے کی صورت میں معاملے کی سماعت ہو گی، جس میں حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے الزام کا جائزہ لیا جائے گا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں