around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 18°
کاروبار

سینیٹ کمیٹی نے گیس کمپنیوں سے 20 سال کی رائلٹی کی تفصیلات طلب کر لیں

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے وزارتِ پیٹرولیم، سندھ حکومت کے محکمہ خزانہ اور محکمہ توانائی کو ہدایت کی ہے کہ گیس کمپنیوں کی طرف سے صوبائی حکومتوں کو گزشتہ 20 سال میں ادا کی گئی رائلٹی کی مکمل تفصیلات اگلے اجلاس میں پیش کی جائیں۔

around.pk·1h ago

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کی ذیلی کمیٹی نے گیس کمپنیوں کی طرف سے صوبائی حکومتوں کو دی جانے والی رائلٹی کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ سینیٹر جام سیف اللہ دھاریجو کی سربراہی میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزارتِ پیٹرولیم، سندھ حکومت کے محکمہ خزانہ اور محکمہ توانائی اگلے اجلاس میں گزشتہ 20 سال کے دوران موصول ہونے والی تمام رائلٹی کی تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔ اجلاس میں سینیٹر قرۃ العین مری، وزارتِ توانائی کے اسپیشل سیکرٹری، ایم ڈی ایس ایس جی سی اور متعلقہ اضلاع کے افسران نے شرکت کی، جبکہ کئی اداروں کے نمائندے آن لائن شامل ہوئے۔

کمیٹی نے او جی ڈی سی ایل کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، جہاں دس برس کی کل رائلٹی تو بتائی گئی مگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ کمپنی کی پیداوار، اس کی بنیاد پر بننے والی کل رائلٹی اور اس کی مکمل تفصیلات چیف فنانشل آفیسر کی جانب سے فراہم کی جائیں۔ سینیٹر قرۃ العین مری نے یہ معاملہ بھی اٹھایا کہ او جی ڈی سی ایل پروڈکشن بونس ادا نہیں کرتی اور خود کو اس سے مستثنیٰ قرار دیتی ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے نمائندے نے بتایا کہ 1990 سے 1993 تک جن فیلڈز میں پیداوار ہو رہی تھی، ان کے حوالے سے ڈائریکٹوریٹ آف پیٹرولیم کنسیشنز نے استثنیٰ دیا تھا، اور 1997 تک کمپنی کی ملکیت وفاقی حکومت کے پاس تھی۔ بعد میں دریافت ہونے والے فیلڈز پر پروڈکشن بونس ادا کیا جا رہا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز کے نمائندے نے وضاحت کی کہ گیس کمپنیاں رائلٹی کی رقم نیشنل بینک میں حکومتِ پاکستان کے اکاؤنٹ میں جمع کراتی ہیں، فنانس ڈویژن کل رقم سے دو فیصد کلیکشن چارجز منہا کر کے ہر صوبے کا حصہ پندرہ دن کے اندر متعلقہ صوبے کو منتقل کر دیتا ہے، جبکہ رائلٹی کا تخمینہ ماہانہ بنیادوں پر لگایا جاتا ہے اور آڈٹ بھی کیا جاتا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ او جی ڈی سی ایل کو استثنیٰ سانگھڑ کے سنجورو بلاک کے حوالے سے حاصل ہے، جہاں 1997 میں پیٹرولیم کنسیشن معاہدہ ہوا تھا، اور یہ رعایت صرف اسی کمپنی پر لاگو ہوتی ہے۔ کمیٹی کو ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ پیش کرنے کا بھی کہا گیا جس میں پندرہ سال کی رائلٹی کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 1995 سے اب تک کی کل پیداوار کا ڈیٹا اور رائلٹی کی تفصیلات فراہم کی جائیں، اور یہ رقم متعلقہ علاقوں میں اسکولوں اور اسپتالوں جیسی سہولیات پر خرچ ہو سکتی ہے۔

اجلاس میں رکن قومی اسمبلی ذوالفقار ستار باچانی نے بتایا کہ ٹنڈو الہیار میں یونائیٹڈ انرجی پیٹرولیم اور او جی ڈی سی ایل تیل و گیس کی تلاش کرتی ہیں، مگر پانچ کلومیٹر کے دائرے میں موجود کنوؤں کا اب تک سروے نہیں ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سروے کے دوران چھوٹی ملازمتیں متعلقہ ضلع کے مقامی افراد کو فراہم کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے اسپیشل سیکرٹری پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ اگر مقامی افراد کو مخصوص تعداد میں نوکریاں دینے کا قانون موجود ہے تو اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

یہ پیش رفت ملکی توانائی شعبے کی شفافیت اور صوبائی حکومتوں کو رائلٹی کی بروقت منتقلی کے حوالے سے اہم ہے، کیونکہ رائلٹی کی مد میں حاصل ہونے والے وسائل متعلقہ علاقوں کی ترقی، تعلیم اور صحت کی سہولیات پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ کمیٹی کی ہدایات کے مطابق اگلے اجلاس میں مکمل اعداد و شمار پیش کیے جائیں گے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں