around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 21°⛅ اسلام آباد 19°
پاکستان

وفاقی آئینی عدالت کا پشاور ہائی کورٹ کے احکامات معطل کرنے کا فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے روکنے کے پشاور ہائی کورٹ کے احکامات معطل کر دیے ہیں، اور آئین کے آرٹیکل 245 کی تشریح پر اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا ہے۔

around.pk·2h ago

وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں تھری ایم پی او کے تحت کی جانے والی گرفتاریوں کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ کے عبوری احکامات معطل کر دیے ہیں۔ عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مسلح افواج کو پورے صوبے میں شہری انتظامیہ کی معاونت کے لیے طلب کیا گیا ہے، اس لیے پشاور ہائی کورٹ میں آرٹیکل 199 کے تحت 12 اکتوبر یا اس کے بعد کی گئی کارروائیاں معطل رہیں گی۔

یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے احکامات میں تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے روک دیا تھا، جسے خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ سہیل آفریدی اور دیگر کے حوالے سے یہ معاملہ اب بھی پشاور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔

چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے موقف اختیار کیا کہ جہاں فوج تعینات ہو وہاں آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ براہ راست کیس نہیں سکتی۔ جسٹس عامر فاروق نے اس پر سوال اٹھایا کہ ہائی کورٹ میں تو روزانہ آرٹیکل 199 کے تحت کئی مقدمات آتے ہیں، کیا وہ انہیں نہیں سنے گی؟ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب میں کہا کہ کرایہ داری یا دیگر مقدمات مجاز فورم سے ہوتے ہوئے ہائی کورٹ آتے ہیں۔

عدالت کے تحریری حکم نامے کے مطابق صدر مملکت نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی، جس کے بعد گورنر کے ذریعے صوبے کا انتظامی کنٹرول سنبھالا گیا، اور پھر وفاقی حکومت نے آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کی اجازت دی۔ اس تناظر میں تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ نے فوجی دستوں کی تعیناتی کے بعد درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے آرٹیکل 245 کے واضح آئینی حکم کو نظر انداز کیا ہے، اور ہائی کورٹ نے ایک نافذ العمل قانون کو غیر موثر بنا دیا، حالانکہ اس کا بنیادی مقصد امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی حراست کا انتظام کرنا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ زیر غور نکات سنجیدہ غور و خوض کے متقاضی ہیں اور یہ کیس محتاط جائزے کا تقاضا کرتا ہے کہ آرٹیکل 245 کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ کا موقف آئینی طور پر درست ہے یا نہیں۔ عدالت نے بادی النظر میں یہ بھی نوٹ کیا کہ آرٹیکل 245 کی شق تین ایسی نوعیت کی اختیارات سماعت ختم کرنے والی شق نہیں جیسی آئین میں دیگر مقامات پر پائی جاتی ہے، اور یہ پابندی صرف اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک مسلح افواج شہری انتظامیہ کی معاونت کے فرائض انجام دے رہی ہوں۔

عدالت نے اس معاملے پر اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید قانونی تشریح کے لیے سماعت کو آگے بڑھانے کا حکم دیا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں