around.pk
Wednesday, 4 November 2026
⛅ کراچی 33°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 26°
پاکستان

پاکستان پوسٹ میں مبینہ غیر قانونی بھرتیاں؛ اسعد محمود کو نیب اور ایف آئی اے کے نوٹسز

پاکستان پوسٹ آفس میں منظور شدہ اسامیوں سے زائد اور ختم شدہ اسامیوں پر مبینہ تقرریوں کے معاملے میں نیب راولپنڈی اور ایف آئی اے نے سابق وفاقی وزیر اسعد محمود کو طلب کرلیا؛ نیب کے مطابق 3,938 منظور شدہ اسامیوں کے مقابلے 4,252 افراد بھرتی کیے گئے۔

around.pk·2h ago

پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) دونوں متحرک ہو گئے ہیں۔ نیب راولپنڈی نے سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا باضابطہ نوٹس جاری کیا ہے، جبکہ ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بھی انہیں اسی معاملے پر طلب کیا ہے۔

نیب نوٹس کے مطابق اسعد محمود کو 10 نومبر 2026ء کو صبح 11 بجے دفتر میں پیش ہونا ہے۔ تحقیقات کا دائرہ ان کے دورِ وزارت یعنی 2022ء اور 2023ء کے دوران پاکستان پوسٹ آفس میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 3,938 اسامیوں پر بھرتی کی اجازت دی تھی، تاہم مبینہ طور پر 4,252 افراد کو تعینات کیا گیا، یعنی منظور شدہ اسامیوں سے زائد تقرریاں کی گئیں۔

نیب نوٹس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ 2,646 ایسی اسامیوں پر بھرتیاں کی گئیں جو پہلے ہی ختم کی جا چکی تھیں، جس پر کابینہ کمیٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ نیب کے مطابق کنٹریکٹ کی بنیاد پر ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے بھرتیوں کی سفارش کی گئی تھی، لیکن بڑی تعداد میں مستقل تقرریاں کی گئیں، جس سے محکمے پر اضافی مالی بوجھ پڑا۔

تحقیقاتی ادارے یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ بعض منتخب امیدواروں کے سیاسی وابستگی رکھنے کے الزامات میں کتنی حقیقت ہے۔ اس کے علاوہ جعلی اور بوگس دستاویزات، زائد العمر امیدواروں کی بھرتی اور ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزیوں کے چارجز بھی تفتیش کا حصہ قرار دیے گئے ہیں۔

نیب نے اپنے نوٹس میں واضح کیا ہے کہ طلبی کے نوٹس پر عدم تعمیل کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 31 کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس معاملے میں اہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ منظور شدہ اسامیوں سے زائد بھرتیاں کس کے حکم پر ہوئیں اور ختم شدہ اسامیوں پر تقرریوں کی اجازت کس نے دی۔

ایف آئی اے اور نیب کی جانب سے ایک ہی معاملے پر الگ الگ طلبی کے نوٹسز جاری ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکام اس کیس کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سرکاری محکموں میں شفاف بھرتیاں اور میرٹ کی پاسداری نہ صرف سرکاری خزانے پر بوجھ کم کرتی ہے بلکہ عوامی اداروں پر اعتماد بحال کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں