ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 29 پیسے کا اضافہ، پیٹرول کی قیمت برقرار
اوگرا نے 31 اکتوبر سے 2 نومبر تک کے لیے نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 377 روپے 91 پیسے پر برقرار رکھی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 29 پیسے مہنگا ہو گیا ہے۔

اوگرا نے آئندہ تین روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 31 اکتوبر کی رات 12 بجے سے 2 نومبر کی رات 12 بجے تک ہوگا، یعنی صارفین کو تین روز کے لیے یہ نئی قیمتیں ادا کرنی ہوں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اسے 377 روپے 91 پیسے پر برقرار رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 2 روپے 29 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 402 روپے 96 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اوگرا کے مطابق یہ قیمتیں حکومت کے طے کردہ میکنزم کے تحت مقرر کی گئی ہیں اور داہی گئی مدت کے لیے ہی نافذ العمل رہیں گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین مختصر مدت کے لیے کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے صارفین کو بار بار قیمتوں میں ردوبدل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں پیٹرول پمپ مالکان کو قیمتوں میں 15 روزہ ردوبدل کے نظام کی بحالی کی یقین دہانی بھی دی گئی تھی، جبکہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے حتمی مذاکرات 3 نومبر کو متوقع ہیں۔ ان مذاکرات کے نتائج آئندہ قیمتوں کے تعین پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا اثر خاص طور پر نقل و حمل اور زراعت کے شعبے پر پڑتا ہے، کیونکہ ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں اور مشینری روزمرہ استعمال اور تجارت کا اہم حصہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
دوسری جانب پیٹرول کی قیمت برقرار رہنے سے نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے استعمال کرنے والے صارفین کو اس مدت کے دوران کسی اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم صارفین کی توجہ اب 3 نومبر کو ہونے والے مذاکرات اور پیٹرولیم لیوی سے متعلق فیصلوں پر مرکوز ہے، جن سے آئندہ قیمتوں کے تعین کا واضح اشارہ مل سکتا ہے۔










