around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 17°
کاروبار

روپے کی قدر میں کمی سے بڑے ہائیڈرو منصوبوں کی لاگت کھربوں روپے بڑھ گئی

وزارت آبی وسائل کی قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی کے باعث دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی لاگت میں مجموعی طور پر کھربوں روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔

around.pk·3h ago

وزارت آبی وسائل نے قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات میں انکشاف کیا ہے کہ ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث ملک کے بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں کی لاگت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، جس سے حکومت کو کھربوں روپے کے اضافی بوجھ کا سامنا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کے پہلے مرحلے (پی سی ون) اور داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ دونوں کی تخمینہ لاگت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کے پی سی ون کی لاگت 479 ارب روپے سے بڑھ کر 1121 ارب روپے تک جا پہنچی ہے، یعنی اس منصوبے کی لاگت میں 642 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ وزارت نے بتایا کہ یہ اضافہ بنیادی طور پر غیر ملکی کرنسی کی شرح تبادلہ میں تبدیلی کے سبب سامنے آیا ہے اور نیا پی سی ون وزارت آبی وسائل میں جمع کروایا جا چکا ہے۔

اسی طرح داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی لاگت 486 ارب روپے سے بڑھ کر 1740 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس منصوبے کی لاگت میں 1254 ارب روپے یعنی تقریباً 260 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار ملکی توانائی کے شعبے میں روپے کی قدر میں کمی کے طویل المدتی مالی اثرات کو واضح کرتے ہیں۔

حکومت نے قومی اسمبلی میں یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی اور درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے تعمیراتی سامان کی لاگت پر شدید اثر پڑا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سیمنٹ کی قیمت میں 204 فیصد اضافہ ہوا اور ایک بوری کی قیمت 530 روپے سے بڑھ کر 1610 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 72 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 414 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی، جو 472 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔

دستاویز کے مطابق اسٹیل اور سریے کی قیمتوں میں بھی 268 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد اس کی مقدار 72 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2 لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق تعمیراتی اشیاء اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف بجلی کی لاگت بلکہ صارفین پر پڑنے والے مالی بوجھ کو بھی مزید بڑھا سکتی ہیں، جبکہ حکومت کو ان منصوبوں کی مالیاتی منصوبہ بندی پر نظرثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں