around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 33°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 25°
دنیا

آبنائے ہرمز کے قریب چار آئل ٹینکر بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ، ایرانی دعوہ

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا دعوہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں ممنوع قرار دیے گئے سمندری راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار آئل ٹینکر بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گئے، جبکہ دو دیگر بحری جہازوں کو بھی قبضے میں لے لیا گیا۔

around.pk·1h ago

تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعوہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب چار آئل ٹینکر بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گئے اور ان میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی فورس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ ٹینکرز آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع اس سمندری راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔

بیان کے مطابق چاروں ٹینکرز تاحال شعلوں کی لپیٹ میں ہیں اور انہیں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعوہ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے دو دیگر بحری جہازوں کو بھی قبضے میں لے لیا ہے۔

آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں منتقل ہونے والے تیل کی ایک بڑی مقدار اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔ ایسے میں اس واقعے سے بحری آمدورفت اور عالمی تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تاہم اب تک متاثرہ ٹینکرز کی شناخت، ان پر سوار عملے کی صورت حال اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں کوئی مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ ایرانی حکام کے ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی تاحال نہیں ہو سکی ہے، اس لیے صورتحال واضح ہونے میں مزید وقت درکار ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی قسم کی کشیدگی کا اثر نہ صرف خطے بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی پڑتا ہے، کیونکہ اس راستے میں خلل آنے کی صورت میں تیل کی قیمتوں اور ترسیلی اخراجات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایرانی بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ٹینکرز کس ملک سے تعلق رکھتے تھے اور نہ ہی بارودی سرنگوں کی نوعیت یا انہیں کب نصب کیا گیا، اس حوالے سے مزید معلومات کا انتظار ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے واقعات بحری تجارت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، تاہم حتمی رائے کے لیے آزادانہ تحقیقات اور متاثرہ جہازوں کی تفصیلات کا سامنے آنا ضروری ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں