امریکی سفارت خانے کا سعودی عرب میں سکیورٹی الرٹ دوبارہ جاری، غیر ہنگامی عملے کو ملک چھوڑنے کی ہدایت
امریکی سفارت خانے نے سعودی عرب میں سکیورٹی الرٹ دوبارہ جاری کرتے ہوئے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی نقل و حرکت پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

ریاض میں امریکی سفارت خانے نے سعودی عرب کے لیے سکیورٹی الرٹ ایک بار پھر جاری کیا ہے اور غیر ہنگامی سرکاری عملے کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کو بھی حفاظتی خدشات کے پیش نظر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ سفارت خانے نے یہ اطلاع سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں دی۔
بیان کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث شہری ہلاکتیں بھی ہوئیں اور سفری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
امریکی سفارت خانے نے اپنے سرکاری ملازمین کی سعودی عرب کے اندر نقل و حرکت پر بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت ملازمین کو ملک کے کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال سے قبل امریکی چیف آف مشن سے خصوصی اجازت حاصل کرنا لازم ہوگا۔
اس کے علاوہ امریکی سرکاری ملازمین کو یمن کی سرحد سے بیس میل کے فاصلے کے اندر سفر کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ سفارت خانے کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات عملے اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ خطے میں کشیدگی کے پس منظر میں یہ سکیورٹی الرٹ دوبارہ جاری کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز کے قریب بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر چار آئل ٹینکرز میں آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے تھے، جس نے خلیجی خطے میں سلامتی کی صورتحال پر مزید سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے جاری ہدایات کا مقصد امریکی شہریوں اور سرکاری عملے کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ پابندیاں کب تک برقرار رہیں گی۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے الرٹس خطے میں سفری اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔











