around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 33°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 25°
دنیا

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کو بڑا دھچکا، پارٹی رہنماؤں نے شکست کا ذمہ ٹرمپ پر ڈال دیا

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ٹیکساس، کینساس، اوہائیو اور جنوبی کیرولائنا سمیت اہم ریاستوں میں کامیابیاں حاصل کیں، جبکہ ریپبلکن رہنماؤں نے شکست کی ذمہ داری صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ڈال دی ہے۔

around.pk·1h ago

امریکا میں منعقدہ وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج نے ریپبلکن پارٹی کے لیے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے ایک بڑے سیاسی نقصان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ نتائج ایسے وقت سامنے آ رہے ہیں جب دو سال قبل ٹرمپ نے کئی اہم ریاستوں میں نسبتاً آسانی سے کامیابی حاصل کی تھی۔

انتخابی رجحانات کے مطابق ڈیموکریٹس نے ٹیکساس، کینساس، اوہائیو اور جنوبی کیرولائنا جیسی ریاستوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جہاں ماضی میں ریپبلکنز کو واضح برتری حاصل تھی۔ اس کے علاوہ آئیووا میں بھی ڈیموکریٹک امیدواروں کی کارکردگی میں واضح بہتری دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ ووٹروں کے رویے میں تبدیلی آ رہی ہے اور صدر کی پالیسیوں پر عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔

نتائج سامنے آنے کے بعد ریپبلکن پارٹی کے کئی رہنماؤں اور سیاسی حکمتِ عملی کے ماہرین نے شکست کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر ڈالنا شروع کر دی ہے۔ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے کہا کہ اس شکست کی مکمل ذمہ داری ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے اور یہ دراصل امریکی صدر کو مسترد کیے جانے کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح ریپبلکن حکمتِ عملی کے ماہر گریگ پیپن نے پارٹی کی انتخابی مہم کو غلطیوں کا مجموعہ قرار دیا اور کہا کہ مختلف ریاستوں میں ووٹروں نے صدر کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا۔

ریپبلکن رہنماؤں کے مطابق ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت، ان کی بعض غیر مقبول پالیسیوں اور مہنگائی سے متعلق عوامی تشویش کو کم اہمیت دینے کے رویے نے پارٹی کی انتخابی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا۔ ابتدا میں ریپبلکنز کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھونے کا خدشہ تھا، تاہم انہیں امید تھی کہ وہ سینیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں گے، لیکن تازہ رجحانات دونوں ایوانوں میں اکثریت کھونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے 45 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ریپبلکنز 36 نشستوں تک محدود رہے ہیں۔ 218 نشستوں والے ایوانِ نمائندگان میں ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس 113 نشستوں پر آگے ہیں جبکہ ریپبلکنز کے حصے میں 62 نشستیں آئی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں اور حتمی نتائج میں تبدیلی ممکن ہے۔

ان انتخابات میں کئی اہم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر ریاست ورجینیا سے امریکی سینیٹ کے لیے دوبارہ منتخب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دے کر ایوانِ بالا میں اپنی چوتھی مدت حاصل کی۔ اسی طرح فلوریڈا کے 20ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک رہنما ڈیبی واسرمین شلٹز نے اپنے ریپبلکن حریف برینٹ اینڈرسن کو ہرا کر امریکی ایوانِ نمائندگان میں اپنی نشست برقرار رکھی۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں