around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☁ کراچی 23°☀ لاہور 19°⛅ اسلام آباد 16°
کاروبار

ایف بی آر کی کارروائی: ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کے نام فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست سے خارج

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے افراد کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے، جس کے تحت ایسے افراد کو ہر قسم کے لین دین پر دوگنا ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

around.pk·2h ago

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کے پہلے مرحلے میں ایسے ٹیکس دہندگان کے نام فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست سے خارج کر دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں اب انہیں ہر قسم کے لین دین پر دوگنا ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق ٹیکس سال 2026 کی فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست اپ ڈیٹ کر دی گئی ہے، جس میں 31 اکتوبر تک گوشوارے جمع نہ کرانے والے افراد کے نام فہرست سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں دو مرتبہ توسیع کی گئی تھی، تاہم دیر سے گوشوارہ جمع کرانے والے محض گوشوارہ فائل کر کے فعال ٹیکس دہندگان میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔

حکام کے مطابق فہرست میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے اضافی سرچارج ادا کرنا ہوگا۔ انفرادی ٹیکس دہندگان کو 25 ہزار روپے، ایسوسی ایشنز کو 50 ہزار روپے جبکہ کمپنیوں کو ایک لاکھ روپے سرچارج دینا ہوگا۔ مزید یہ کہ توسیع کی درخواست دینے والے بعض افراد کے نام بھی نئی فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل نہیں ہیں، اور توسیع کی درخواست منظور ہونے تک ان کا اسٹیٹس غیر فعال رہے گا۔

ذرائع کے مطابق فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں نام نہ ہونے کے باعث کاروباری نقصانات کو اگلے سال منتقل کرنے کا حق بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر فائلرز کو زیادہ شرح سے ٹیکس ادا کرنا پڑے گا، جبکہ فہرست سے باہر رہنے والوں کو ٹیکس ریفنڈ ملنے میں بھی رکاوٹ پیش آ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ایف بی آر کی یہ کارروائی ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور گوشوارہ جمع کرانے کی حوصلہ افزائی کے لیے اٹھایا گیا اہم قدم ہے۔ دوسرے مرحلے میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس سے ان افراد کو براہ راست مالی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو مقررہ مدت کے اندر اپنے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کراتے۔

ٹیکس ماہرین کے مطابق فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہونا نہ صرف ٹیکس کی کم شرح اور ریفنڈ کے حصول کے لیے ضروری ہے، بلکہ کاروباری اداروں کے لیے بینکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ٹیکس دہندگان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مقررہ وقت پر اپنے گوشوارے جمع کروائیں تاکہ کسی قسم کی اضافی مالی ذمہ داری سے بچا جا سکے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں