پشاور میں حوالہ ہنڈی کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی، دو ملزمان گرفتار اور 3 کروڑ روپے برآمد
ایف آئی اے نے پشاور صدر کینٹ میں غیر قانونی حوالہ ہنڈی کے کاروبار کے خلاف چھاپہ مار کر دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن کے قبضے سے 3 کروڑ روپے نقد اور دیگر شواہد برآمد ہوئے ہیں۔

پشاور میں غیر قانونی حوالہ ہنڈی کے کاروبار کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن کے قبضے سے 3 کروڑ روپے نقد پاکستانی کرنسی برآمد کی گئی ہے۔ یہ کارروائی ملکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی لین دین سے محفوظ رکھنے کی کوششوں کا حصہ قرار دی جا رہی ہے۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق کمرشل بینکنگ سرکل پشاور کی ٹیم نے پشاور صدر کینٹ میں چھاپہ مار کارروائی کی، جس کے دوران حوالہ ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث دو ملزمان دوست محمد اور نذیر میر کو گرفتار کیا گیا۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے نقد رقم کے علاوہ اس غیر قانونی کاروبار سے متعلق دیگر شواہد بھی قبضے میں لیے گئے۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار ملزمان کسی قانونی لائسنس یا اجازت نامے کے بغیر حوالہ ہنڈی کا کاروبار چلا رہے تھے اور غیر قانونی مالی لین دین میں ملوث تھے۔ ایف آئی اے نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ادارے نے برآمد شدہ رقم اور دیگر شواہد کی روشنی میں معاملے کے مزید پہلوؤں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ شرکا اور غیر قانونی لین دین کی مکمل تفصیلات معلوم کی جا سکیں۔ حوالہ ہنڈی کے ذریعے کیے جانے والے لین دین سے ملکی معیشت اور زرمبادلہ کے ذخائر پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس کے پیش نظر ریگولیٹرز اس عمل کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق غیر قانونی حوالہ ہنڈی نہ صرف ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کو فروغ دیتی ہے بلکہ رسمی بینکنگ نظام کے ذریعے ترسیلات زر کی حوصلہ شکنی کا سبب بھی بنتی ہے۔ ایف آئی اے کی ایسی کارروائیاں اس غیر قانونی دھندے کے خلاف اہم پیغام دیتی ہیں اور عوام میں اس بات کا شعور اجاگر کرتی ہیں کہ مالی معاملات صرف مجاز بینکاری چینلز کے ذریعے ہی انجام دیے جائیں۔
یاد رہے کہ غیر قانونی حوالہ ہنڈی کے خلاف ملک بھر میں ایسی کارروائیاں وقتاً فوقتاً جاری رہتی ہیں، جن کا مقصد مالیاتی شفافیت کو یقینی بنانا اور غیر رسمی معیشت کے حجم کو کم کرنا ہے۔ تفتیشی اداروں کی جانب سے اس مقدمے کی مزید سمتیں جانچنے کے بعد ممکنہ طور پر مزید گرفتاریوں اور شواہد سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔











