around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 23°☀ اسلام آباد 21°
کاروبار

جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو خطرات لاحق، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں باعث تشویش

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے معاملات پر یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو منفی اشارے مل رہے ہیں، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اسکیم دسمبر 2028 تک جاری رہے گی اور 2024 میں ترجیحی ٹیرف کے تحت 7.5 ارب یورو کی برآمدات کی گئیں۔

around.pk·43m ago

پاکستان کے لیے یورپی یونین کی جانب سے حاصل کردہ جی ایس پی پلس تجارتی سہولت انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث خطرے میں پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سید نوید قمر نے خبردار کیا ہے کہ انسانی حقوق کے معاملات پر پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے منفی اشارے مل رہے ہیں، البتہ حکومت نے کسی فوری خطرے کی تردید کی ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سید نوید قمر نے کہا کہ ایسے اشارے موصول ہو رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے مسائل کے سبب پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس ممکنہ خطرے کی تفصیلات تو بیان نہیں کیں، تاہم یورپی یونین کی تازہ مانیٹرنگ رپورٹ میں انسانی حقوق، بنیادی آزادیوں، عدالتی نظام کی کمزوری اور آزادی اظہار کے حوالے سے متعدد تحفظات سامنے آئے ہیں۔

وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال کیانی نے کمیٹی کو بتایا کہ جی ایس پی پلس اسکیم دسمبر 2028 تک جاری رہے گی، جبکہ جنوری 2029 سے شروع ہونے والی نئی اسکیم کے لیے درخواست تیار کرنے کے مقصد سے نائب وزیراعظم کی سربراہی میں ایک کمیٹی کام کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی پانچویں جی ایس پی رپورٹ کے مطابق پاکستان اس تجارتی سہولت سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہے اور 2024 میں پاکستان نے ترجیحی ٹیرف کے تحت یورپی یونین کو 7.5 ارب یورو کی برآمدات کیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو جبری گمشدگیوں اور آزادی اظہار کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے منفی رجحانات روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ یورپی یونین نے توہین مذہب، سائبر کرائم، ہتک عزت، انسداد دہشت گردی اور بغاوت سے متعلق قوانین میں ترمیم یا انہیں ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران پاکستان کو جی ایس پی پلس کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد میں مشکلات کا سامنا رہا اور متعدد شعبوں میں پیش رفت کے بجائے تنزلی دیکھنے میں آئی، جبکہ مثبت تبدیلی محدود رہی۔ یورپی یونین نے مستقبل کے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتساب، تشدد کے خاتمے، جیلوں میں اصلاحات، سزائے موت کے معاملات میں بہتری اور جبری گمشدگیوں و آزادی اظہار سے متعلق منفی رجحانات روکنے کو اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔

اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں کی بندش اور وسطی ایشائی ریاستوں کو پاکستانی برآمدات پر اس کے اثرات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ واضح رہے کہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کو یورپی منڈیوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہے، اور اس سہولت کا برقرار رہنا ملکی برآمدات اور معیشت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں