سوئٹزرلینڈ میں بغیر انسولین شوگر کنٹرول کرنے والی تجرباتی ڈیوائس تیار
زیورخ کے محققین نے ایک تجرباتی ڈیوائس بنائی ہے جو خون میں اضافی گلوکوز کو گلوکونیٹ میں تبدیل کرکے جسم سے خارج کرنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ ایک علیحدہ تحقیق میں جی ایل پی ون ادویات سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 31 فیصد کم ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
سوئٹزرلینڈ کے سائنس دانوں نے ذیابیطس کے علاج کے میدان میں ایک اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔ ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے محققین نے ایک تجرباتی ڈیوائس تیار کی ہے جو جسم میں نصب کیے جانے کے بعد خون میں شوگر کی سطح کو خودکار طور پر کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ محققین کے مطابق یہ ڈیوائس ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج کے لیے نئی امید پیدا کرتی ہے، تاہم اب تک اس کے نتائج صرف جانوروں پر کیے گئے تجربات تک محدود ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ ڈیوائس خون میں موجود اضافی گلوکوز کو گلوکونیٹ میں تبدیل کرتی ہے، جسے بعد ازاں گردے پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکال دیتے ہیں۔ یہ طریقہ کار جسم میں انسولین کے استعمال کے بغیر شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے، جو طویل عرصے سے انسولین پر منحصر مریضوں کے لیے ایک مختلف قسم کا علاج تصور کیا جا رہا ہے۔
وائرلیس ٹیکنالوجی سے چلنے والی اس ڈیوائس کو مسلسل شوگر کی نگرانی کرنے والے نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔ چوہوں پر کیے گئے تجربات میں اس نے خودکار طور پر شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے نتائج دکھائے۔ محققین کا کہنا ہے کہ تجربات کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ ڈیوائس جسم میں ذخیرہ شدہ چربی کے استعمال کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے، جس سے ذیابیطس اور موٹاپے کے بیک وقت علاج کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
ادھر ایک علیحدہ طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موٹاپے اور ذیابیطس سے قبل کی کیفیت یعنی پری ڈائیبیٹیز میں مبتلا افراد میں جی ایل پی ون ادویات کے استعمال سے ٹائپ ٹو ذیابیطس لاحق ہونے کا خطرہ 31 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ان مریضوں کے لیے اہم ہیں جو ابھی مکمل طور پر ذیابیطس میں مبتلا نہیں ہوئے اور طرزِ زندگی اور دوا کے ذریعے خطرے کو کم کرنا چاہتے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق نئی ڈیوائس سے متعلق نتائج دلچسپ ضرور ہیں لیکن یہ ابتدائی مرحلے کے تجربات ہیں۔ انسانوں پر اس کی افادیت، حفاظت اور طویل مدتی اثرات کے تعین کے لیے مزید وسیع طبی آزمائشیں درکار ہوں گی۔ اس سے قبل کہ اسے عام علاج کے طور پر استعمال کیا جائے، ریگولیٹری اداروں کی منظوری بھی لازمی ہوگی۔
یاد رہے کہ ذیابیطس ایک طویل مدتی بیماری ہے جس کے علاج میں ادویات، غذا اور ورزش کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی اور ادویات سے متعلق ایسی تحقیقات مریضوں اور طبی ماہرین دونوں کے لیے معلوماتی ہیں، تاہم کسی بھی نئے علاج کو اپنانے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔











