کمر درد کی وہ وجوہات جن سے اکثر لوگ لاعلم رہتے ہیں
عالمی ادارہ صحت کے مطابق کمر کے نچلے حصے کا درد دنیا بھر میں معذوری کی سب سے بڑی وجہ ہے اور 2050 تک متاثرین کی تعداد 80 کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ، مسلسل ایک ہی انداز میں بیٹھنا اور جسمانی سرگرمی میں کمی بھی اس درد کی خاموش وجوہات ہو سکتی ہیں۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
کمر درد کو عام طور پر صرف جسمانی مشقت یا غلط اٹھانے سے جوڑا جاتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس کی کئی ایسی وجوہات بھی ہیں جن سے اکثر لوگ لاعلم رہتے ہیں۔ ان میں ذہنی دباؤ، مسلسل ایک ہی انداز میں بیٹھنا اور جسمانی سرگرمی میں کمی شامل ہیں، جو رفتہ رفتہ درد کو بڑھا سکتی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق کمر کے نچلے حصے کا درد دنیا بھر میں معذوری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اندازوں کے مطابق 2050 تک اس سے متاثرہ افراد کی تعداد 80 کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جسمانی سرگرمی کا عدم توازن بھی کمر درد کی اہم وجہ ہے۔ مسلسل بیٹھے رہنا جہاں پٹھوں کو کمزور کرتا ہے، وہیں اچانک ضرورت سے زیادہ ورزش یا بھاری مشقت بھی درد کو بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح گھنٹوں کمر کو زبردستی سیدھا رکھنا پٹھوں میں تناؤ پیدا کرتا ہے، جبکہ بیٹھنے کی پوزیشن بدلتے رہنا زیادہ مفید سمجھا جاتا ہے۔
ذہنی دباؤ کو بھی اس درد کی ایک خاموش وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ مسلسل تناؤ درد کی شدت کو بڑھا سکتا ہے اور پٹھوں میں کھنچاؤ پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح معمولی تکلیف کو سنگین چوٹ سمجھ لینے کا خوف بھی درد کے تجربے کو مزید شدید بنا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عام کمر درد میں فوری ایم آر آئی کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اسکین میں نظر آنے والی بعض تبدیلیاں عمر بڑھنے کا معمول کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔ اس کے بجائے متوازن جسمانی سرگرمی، باقاعدہ چہل قدمی، پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزش اور مسلسل بیٹھنے کے دوران وقفے لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
تاہم ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ مسلسل یا بڑھتے ہوئے درد کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ٹانگوں میں بڑھتی کمزوری یا جسم کے مخصوص حصوں میں سن ہونا فوری طبی معائنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ کسی سنگین مسئلے کو بروقت پہچانا جا سکے۔
ان وجوہات کو سمجھنا اس لیے اہم ہے کہ کمر درد سے بچاؤ کے لیے صرف دوا پر انحصار کافی نہیں، بلکہ روزمرہ عادات میں توازن، حرکت اور ذہنی سکون کو شامل کرنا زیادہ مؤثر اور محفوظ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔











