ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی: قشم جزیرے پر میزائل حملوں کا دعویٰ، ٹرمپ کا ایرانیوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت
ایرانی خبر رساں ادارے نے قشم جزیرے پر دو میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے جبکہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون مار گرانے اور دو تیل بردار جہازوں کے تباہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ادھر صدر ٹرمپ نے ایرانی شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑی کارروائی جلد ہونے والی ہے۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات میں ایک اور پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں واقع قشم جزیرے پر دو میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ اس دعوے کی ابھی تک کسی خودمختار ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی کسی فریق نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے بھی اہم دعوے سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قشم جزیرے کے قریب ایک امریکی ایم کیو ون ڈرون مار گرایا گیا ہے اور یہ ان کا نشانہ بنایا جانے والا 16 واں ڈرون ہے۔ اس کے علاوہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہازوں کے بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں جہازوں نے غیر مجاز راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق بھی ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب امریکی ٹی وی اینکر جیک ٹیپر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد بتایا کہ امریکی صدر نے ایرانی شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ٹیپر کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا محفوظ نہیں اور وہاں صورتحال مزید غیر محفوظ ہونے والی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کو ابھی سختی سے نشانہ بنانا شروع بھی نہیں کیا گیا اور بڑی کارروائی جلد ہونے والی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی بلند سطح پر ہے اور خلیج فارس کے آبی راستوں کی سلامتی پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزری گاہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی خلل عالمی توانائی منڈیوں اور قیمتوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ خطے کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں اور سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی اپیلیں بھی جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق فریقین کے بیان بازی کے باوجود اب تک سامنے آنے والے دعووں کی شفاف تصدیق نہ ہونا اطلاعات کی جانچ کو مشکل بنا رہا ہے۔ قارئین کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ ایسی خبروں کو حتمی سمجھنے سے گریز کریں جب تک کہ مستند بین الاقوامی ذرائع سے ان کی تصدیق نہ ہو جائے۔
خیال رہے کہ اس رپورٹ میں شامل تمام دعوے ایرانی اور امریکی ذرائع کے بیانات پر مبنی ہیں اور انہیں متعلقہ فریقوں کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ خطے میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے تازہ ترین مستند اطلاعات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔








