ایران نے بیلسٹک میزائلوں کی 2 ہزار کلومیٹر رینج کی پابندی ختم کر دی
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے تہران میں بتایا کہ میزائلوں کی رینج سے متعلق خودساختہ پابندی ہٹا دی گئی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بیلسٹک میزائلوں کی پرواز کی حد دو ہزار کلومیٹر تک محدود رکھنے کی خودساختہ پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ممکنہ نئی جنگ کے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ایران کے لیے میزائلوں کی رینج سے متعلق عائد پابندی اب ختم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران محض بیانات دینے کے بجائے عملی طور پر اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ایران کے پاس اس وقت دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں یا نہیں۔
یہ اعلان ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کو دی گئی حالیہ وارننگ کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی نوعیت اور سطح کے خطرے کا جواب جغرافیائی حدود کی پروا کیے بغیر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایران کے موجودہ بیلسٹک میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریباً دو ہزار کلومیٹر سمجھی جاتی رہی ہے، جس کے دائرے میں جزیرہ نما عرب، مشرقِ وسطیٰ، مصر کے بیشتر علاقے اور یورپ کے بعض حصے آتے ہیں۔ امریکی حکام ماضی میں خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ ایران کے خلائی پروگرام میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کو بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم ایران کے پاس اس وقت دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ رینج کے میزائلوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ادھر ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایک آئل ٹینکر بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر آگ لگنے کا شکار ہو گیا۔ ایرانی فوج کے مطابق مذکورہ جہاز نے اپنا نیوی گیشن سگنل بند کر رکھا تھا اور ممنوعہ سمندری علاقے میں سفر کر رہا تھا۔ ایرانی حکام نے تاحال ٹینکر کی قومیت یا اس کی منزل کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایسے میں اس خطے میں کشیدگی میں اضافہ توانائی کی منڈیوں اور عالمی معیشت کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے۔
ماہرین کے مطابق ایرانی میزائل پروگرام سے متعلق بیانات اور سمندری واقعات کے ایک ہی وقت میں سامنے آنے سے سفارتی محاذ پر بھی صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے، اور عالمی برادری کی نظریں تہران کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔
اب تک کی کہانی پاسداران انقلاب
- ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی: قشم جزیرے پر میزائل حملوں کا دعویٰ، ٹرمپ کا ایرانیوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت
- آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز مبینہ طور پر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں
- ایران کا قشم جزیرے کے قریب دو مزید امریکی ڈرونز ناکارہ بنانے کا دعویٰ










