ایران کا کہنا ہے آبنائے ہرمز کی بندش امریکا کی جانب سے شرائط قبول کرنے تک جاری رہے گی
ایرانی فوج کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایرانی مسلح افواج کا مکمل کنٹرول ہے اور یہ گزرگاہ امریکا کی جانب سے شرائط تسلیم کرنے تک بند رہے گی، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا ایرانی حکام کی جانب سے رکھی گئی شرائط کو تسلیم نہیں کرتا۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے جمعے کی شام صوبہ تہران کے علاقے پیشوا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا۔ یہ تقریب 1963 کی تحریک میں ہلاک ہونے والے کمانڈروں اور پائلٹوں کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج کو اس اہم سمندری گزرگاہ پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ امریکا کی جانب سے ایران کی شرائط قبول کیے جانے سے مشروط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم کے بعد ایران کی فوج، پاسدارانِ انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے سے زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ موجود ہیں، اور جنگ کے دوران عوامی حمایت نے ایرانی افواج کے حوصلے میں اضافہ کیا۔
محمد اکرم نیا نے آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 بحری جہاز اس گزرگاہ سے گزرتے تھے، جن کے ذریعے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کے علاوہ طیاروں کا ایندھن اور کیمیائی کھادیں بھی منتقل کی جاتی تھیں۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور اسے عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس گزرگاہ کی بندش یا آمدورفت میں رکاوٹ عالمی منڈیوں اور تیل کی سپلائی کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تجارت کا ایک اہم مرکز ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ توانائی کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان کا یہ بیان تہران کے اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا مستقبل امریکا کے ساتھ جاری تنازع اور مذاکرات میں ایران کی شرائط سے جڑا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے گزشتہ عرصے میں آبنائے ہرمز سے متعلق متعدد بیانات دیے ہیں، جن میں اس گزرگاہ کی اہمیت اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر زور دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کی نظر میں یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی اور عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے اہم ہے، اور اس پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
اب تک کی کہانی تہران
- ایران نے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کر دی، امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کی امید
- ایران کی دھمکی: دوبارہ حملے کی صورت میں دنیا بھر میں امریکی اثاثے نشانے پر ہوں گے
- ٹرمپ کا ایران کے جوہری پروگرام پر سخت موقف: امریکی منظوری کو لازمی قرار دینے کا اعلان
- ایران میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو موت کی سزا اور پانچ سال قید کا حکم








