امریکا کا ایران پر محدود فضائی کارروائی، قشم کے قریب دفاعی نظام تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جزیرہ قشم کے قریب فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے، جبکہ ایرانی میڈیا نے امریکی ڈرون گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب قطر کی ثالثی میں مذاکرات کے لیے نئی تجاویز زیر غور ہیں۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک نئی محدود فوجی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ رواں ہفتے جزیرہ قشم اور آبنائے ہرمز کے اطراف دوسری امریکی فوجی کارروائی ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے جزیرہ قشم کے علاقے سوزہ میں دو دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی ہے۔ جزیرہ قشم آبنائے ہرمز میں واقع ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے اور عالمی توانائی منڈیوں کے لیے اس کی اہمیت مسلم ہے۔
فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس کارروائی کو معمولی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ایک چھوٹا فضائی دفاعی نظام تیار کیا تھا جسے امریکی فوج نے چند منٹوں میں تباہ کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی تقریباً پندرہ منٹ بلکہ ممکنہ طور پر صرف پانچ منٹ میں مکمل ہو گئی، تاہم انہوں نے حملے کے ہدف یا کارروائی کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ایم کیو 1 پریڈیٹر ڈرون بھی مار گرایا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور دونوں فریقوں کے بیانات کے حوالے سے تصدیق شدہ معلومات محدود ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے لیے نئی تجاویز زیر غور ہیں۔ علاقائی حکام کے مطابق مجوزہ تجاویز میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایران کے منجمد اثاثوں کی کچھ رقم جاری کرنے اور بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو متاثرہ تنصیبات تک رسائی دینے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اس کے مقابلے میں ایران نے مذاکرات سے قبل امریکی پابندیاں ختم کرنے، جنگی نقصانات کا معاوضہ دینے اور خطے میں فوجی کارروائیاں روکنے سمیت متعدد شرائط پیش کی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی فوجی کارروائیاں خطے میں کشیدگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا اہم ترین سمندری راستہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی اور قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں علاقائی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
اب تک کی کہانی قشم جزیرے
- ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی: قشم جزیرے پر میزائل حملوں کا دعویٰ، ٹرمپ کا ایرانیوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت
- ایران کا قشم جزیرے کے قریب دو مزید امریکی ڈرونز ناکارہ بنانے کا دعویٰ









