سندھ حکومت کا صنعتی یونٹس میں بجلی کی تنصیبات کی سالانہ جانچ کا فیصلہ، صنعتکاروں کا احتجاج
سندھ حکومت کے محکمہ توانائی نے 2003 کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے نجی شعبے کی عمارتوں میں بجلی کی تنصیبات کی سالانہ انسپکشن کے نوٹس جاری کر دیے ہیں، جبکہ فیباٹی نے اسے صنعتی شعبے پر نیا بوجھ قرار دیتے ہوئے نوٹسز واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
سندھ حکومت کے محکمہ توانائی نے نجی شعبے کی تمام عمارتوں میں بجلی کی تنصیبات کی سالانہ جانچ پڑتال کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں سال 2003 کے نوٹیفکیشن کو معطل کیا گیا ہے، جس کے بعد الیکٹرک انسپکٹریٹ نے صنعتی اور تجارتی اداروں کو انسپکشن سے متعلق اطلاع نامے بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔
دوسری جانب فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فیباٹی) نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتی یونٹس کی سالانہ انسپکشن صنعتی شعبے پر ایک نیا اور غیر ضروری بوجھ ثابت ہوگی۔ ایسوسی ایشن نے الیکٹرک انسپکٹریٹ کی جانب سے بھیجے گئے نوٹسز واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
فیباٹی کے صدر سید رضا حسین نے واضح کیا کہ صنعتی شعبہ الیکٹرک انسپکٹریٹ کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا، کیونکہ یہ صنعتی سرگرمیوں میں مداخلت کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صنعتوں کو اس فیصلے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور بجلی کی تنصیبات کی جانچ پڑتال کا دائرہ کار صرف کمرشل عمارتوں تک محدود رکھا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ جاری کردہ نوٹسز نے صنعتکاروں میں بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق صنعتی شعبہ پہلے ہی مہنگی بجلی، گیس، بھاری ٹیکسوں اور پانی کے مسائل سے دوچار ہے، اس لیے مزید سرکاری مداخلت کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی یونٹس کی بار بار انسپکشن سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
فیباٹی کے صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صنعتی شعبے کو غیر ضروری ضابطوں اور انتظامی رکاوٹوں سے نجات دلائی جائے اور الیکٹرک انسپکٹریٹ صنعتی یونٹس کے بجائے صرف کمرشل عمارتوں کی جانچ پڑتال تک محدود رہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو استثنیٰ دینے کے لیے سال 2003 کا نوٹیفکیشن بحال کیا جائے تاکہ صنعتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔
واضح رہے کہ صنعتی شعبہ ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور کاروباری برادری مسلسل حکام سے کاروبار دوست پالیسیوں اور ضوابط میں سہولت کی اپیل کرتی رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے انتظامی اقدامات پر صنعتکاروں اور حکومت کے درمیان مشاورت سے فیصلہ کرنا طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔
اب تک کی کہانی سندھ حکومت
- سندھ حکومت کا تھرپارکر کو آفت زدہ ضلع قرار دینے کا فیصلہ، 90 فیصد فصلیں تباہ
- سینیٹ کمیٹی نے گیس کمپنیوں سے 20 سال کی رائلٹی کی تفصیلات طلب کر لیں
- جناح اسپتال میں جینیاتی بیماری کے مریضوں کو 13 لاکھ روپے مالیت کا سیرپ مفت فراہم











