پیٹرولیم ڈیلرز کا فیول سبسڈی اسکیم میں شامل ہونے سے انکار، زبردستی پر پمپ بند کرنے کی دھمکی
پی پی ڈی اے کا مطالبہ ہے کہ سبسڈی براہ راست صارفین کو دی جائے اور ڈیلرز کو بتایا جائے کہ رقم کون ادا کرے گا۔
بحوالہ: Express News · 16 ستمبر 2026, 10:51 صبح
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ جب تک یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ سبسڈی کی رقم ڈیلرز کو کیسے اور کون ادا کرے گا، ڈیلرز وفاقی حکومت کی فیول سبسڈی اسکیم کا حصہ نہیں بنیں گے، اور زبردستی کی گئی تو پیٹرول پمپ بند کر دیے جائیں گے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے کہا کہ ریلیف کا اقدام قابل تعریف ہے لیکن اس کے طریقہ کار پر اعتراض ہے۔ وائس چیئرمین انور کمال کا کہنا تھا کہ حکومت نے ڈیلرز سے مشاورت کے بغیر یہ اسکیم بنائی۔
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ سبسڈی کی رقم براہ راست صارفین کو دی جائے یا اس کے لیے پچھلا طریقہ کار استعمال کیا جائے، اور اعتراضات دور ہونے تک اسکیم پر عمل درآمد روک دیا جائے۔
ملک خدا بخش نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مہینے میں ایک بار مقرر کی جائیں اور ڈیلرز کا مارجن 8 فیصد کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین روز سے حکومت سے رابطے کی کوشش کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق بحیرہ احمر کے راستے سعودی تیل پاکستان پہنچنے میں 23 دن سے زیادہ لگ رہے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کے راستے یہ ایک ہفتے میں پہنچ جاتا تھا۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ موجودہ طریقہ کار سے اربوں روپے پھنسنے کا خدشہ ہے اور ملک بھر کے 14 ہزار ڈیلرز مالی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز کی بھی مخالفت کی۔
اسی زمرے سے
فیول سبسڈی اسکیم: وزیراعظم کی ہر پیٹرول پمپ پر رہنمائی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت
17 گھنٹے قبل
نئے صوبے بنانا وقت اور عوام کی ضرورت ہے: وفاقی وزیر سردار محمد یوسف کا صوبہ ہزارہ کا مطالبہ
20 گھنٹے قبل
بجلی چوری پر پورا فیڈر نہیں، صرف متعلقہ ٹرانسفارمر بند ہوگا: حکومت کا نیا نظام لانے کا فیصلہ
21 گھنٹے قبل
ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے شرائط، معاہدہ مشکل میں
1 ماہ قبل