around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 33°☀ لاہور 27°⛅ اسلام آباد 24°
کاروبار

آئی ایم ایف کا ٹیکس شارٹ فال پر تحفظات، ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز

عالمی مالیاتی ادارے نے ٹیکس محاصل میں کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے 15 ہزار 264 ارب روپے کا سالانہ ہدف پورا کرنے اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانے پر زور دیا ہے۔

around.pk·3h ago

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ملک میں ٹیکس وصولی کے اہداف میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شارٹ فال پورا کرنے کے لیے ہنگامی نوعیت کے ٹیکس اقدامات تجویز کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اکتوبر کے مہینے میں 129 ارب روپے اور چار ماہ کے دوران 96 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال پر تحفظات کا اظہار کیا اور حکام پر زور دیا کہ سالانہ ٹیکس وصولی کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے تک پہنچایا جائے۔

عالمی ادارے نے موجودہ ٹیکس محاصل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق اگر ٹیکس شارٹ فال میں مزید اضافہ ہوا تو نئے ٹیکس عائد کرنے یا سرکاری اخراجات میں کٹوتی جیسے آپشنز زیر غور آ سکتے ہیں، جبکہ آئندہ اقتصادی جائزوں میں ریونیو سے متعلق شرائط مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی سطح پر جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں محاصل بڑھانا ضروری قرار دیا گیا ہے اور نئے بجٹ سے قبل ریٹیل، ہول سیل اور زرعی شعبوں سے ٹیکس وصولی میں پیش رفت پر بھی بات کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے پیشہ ور افراد سمیت تمام ایسے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر زور دیا ہے جو اب تک ٹیکس دائرے سے باہر ہیں۔

واضح رہے کہ یہ مطالبات سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت طے شدہ شرائط کا حصہ ہیں، جنہیں پورا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکس نیٹ کی توسیع اور ریونیو میں اضافہ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے، تاہم عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے گریز کرتے ہوئے ٹیکس نظام کو مؤثر اور شفاف بنانا ضروری ہے۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریونیو کے اہداف کے حصول کے لیے ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے اور ٹیکس چوری کے خاتمے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ آئندہ بجٹ کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے ریونیو سے متعلق شرائط مزید سخت ہونے کے امکانات کے پیش نظر حکام کے لیے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا ایک اہم چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں