اوورسیز پاکستان فاؤنڈیشن کے ملازمین کو حکومت کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ بھی نہ ملنے کا انکشاف
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ اوورسیز پاکستان فاؤنڈیشن کے ملازمین کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم تنخواہ سے بھی کم معاوضہ دیا جا رہا ہے، جبکہ اہم بلوں کی منظوری آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دی گئی ہے۔

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ وزارت سمندر پار پاکستانیز کے ماتحت ادارے اوورسیز پاکستان فاؤنڈیشن (او پی ایف) کے ملازمین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کم از کم تنخواہ سے بھی کم معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین آغا رفیق اللہ نے کی، جس میں وزارت اور ادارے کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کمیٹی چیئرمین نے غیر معمولی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محض کم از کم تنخواہ دینے کے لیے بھی بورڈ کی منظوری درکار ہے، اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا حکومت پاکستان کے احکامات اس ادارے کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ غریب ملازمین کو ہر سال بورڈ میٹنگ کے انتظار میں نہیں رکھا جا سکتا، اور حکومت کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ کسی بھی ادارے میں نہ ملنا قابل قبول نہیں۔
او پی ایف کے سیکریٹری نے موقف اختیار کیا کہ ادارہ حکومت سے مالی امداد حاصل نہیں کرتا، البتہ اسے بعض قواعد و ضوابط کی پاسداری کرنی ہوتی ہے۔ تاہم کمیٹی چیئرمین نے سوال کیا کہ جس دن قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے، اسی روز بورڈ میٹنگ رکھنے کی کیا ضرورت تھی، اور یاد دلایا کہ حکومت نے 21 اگست کو کم از کم تنخواہ 40 ہزار 700 روپے مقرر کی تھی جس کے بعد یہ بورڈ اجلاس بلایا گیا۔
کمیٹی کی رکن مہرین بھٹو نے کہا کہ کم از کم تنخواہ میں اضافے کے اعلان کو تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور معاشی دباؤ کے باعث لوگ انتہائی اقدام پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تنخواہ میں اب تک اضافہ نہ کرنے کو افسوسناک قرار دیا اور ادارے کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا۔
اجلاس میں ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی ارکان نے استفسار کیا کہ آیا قانونی شعبے نے بل کا جائزہ لے لیا ہے اور آیا یہ ترمیم پورے ملک پر لاگو ہوگی۔ اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ زیر غور تینوں بل آئندہ اجلاس تک مؤخر کیے جاتے ہیں اور مزید غور کے لیے قانون سازی کمیٹی کو بھیجے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ اوورسیز پاکستان فاؤنڈیشن سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم کردہ ادارہ ہے۔ قائمہ کمیٹی کی جانب سے کم از کم تنخواہ کے نفاذ پر زور دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتی احکامات کے عملی نفاذ میں ادارہ جاتی سطح پر خلا موجود ہے، جس کا براہ راست اثر عام ملازمین کی معاشی زندگی پر پڑ رہا ہے۔







