لاہور کے گرد ایک ہفتے میں آگ کے 3,712 مقامات، فضائی آلودگی کے خطرات میں اضافہ
ناسا سیٹلائٹ ڈیٹا پر مبنی تجزیے کے مطابق لاہور کے گرد 300 کلومیٹر کے دائرے میں ایک ہفتے کے دوران آگ کے 3,712 مقامات ریکارڈ ہوئے، جبکہ شہر میں پی ایم 2.5 کی سطح میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

پاکستان ایئر کوالٹی انیشیٹو (پی اے کیو آئی) کے ناسا سیٹلائٹ ڈیٹا پر مبنی تجزیے کے مطابق لاہور کے گرد 300 کلومیٹر کے دائرے میں ایک ہفتے کے دوران آگ لگنے کے 3,712 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں پاکستان کے 2,753 اور بھارت کے 957 مقامات شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار 27 اکتوبر سے 2 نومبر کے دوران ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آگ کے مقامات کی تعداد گزشتہ سال اسی عرصے کے 2,390 مقامات کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ رہی۔ مزید برآں 2018 سے 2025 کے دوران انہی تاریخوں میں اوسط تعداد 1,824 رہی، جس کے مقابلے میں رواں سال کی تعداد 51 فیصد زیادہ ہے۔ دوسری جانب بھارت میں اس سال 957 مقامات پر آگ کی نشاندہی ہوئی، جو گزشتہ آٹھ برسوں کی اسی عرصے کی اوسط 10,448 سے نمایاں طور پر کم ہے۔
مجموعی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اور بھارت میں فائر ہاٹ اسپاٹس کی تعداد 2018 میں 19,674، 2019 میں 10,563، 2020 میں 21,157، 2021 میں 15,860، 2022 میں 16,118، 2023 میں 6,743، 2024 میں 4,464 اور 2025 میں 3,667 ریکارڈ ہوئی تھی، جبکہ رواں سال یہ تعداد 3,712 رہی۔
پی اے کیو آئی کے تجزیے میں لاہور کی فضائی آلودگی اور آگ کے مقامات کے درمیان تعلق کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوسرے نصف میں آگ کے مقامات بڑھنے کے ساتھ پی ایم 2.5 کی سطح میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ یکم اور 2 نومبر کے قریب لاہور میں پی ایم 2.5 کی روزانہ اوسط تقریباً 220 سے بڑھ کر 285 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی۔ تاہم یہ اعداد و شمار بذات خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ فضائی آلودگی میں اضافے کی وجہ صرف فصلوں کی باقیات جلانا تھی۔
لاہور پہنچنے والی ہواؤں کے ممکنہ راستوں کا جائزہ لینے کے لیے امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کے ہائسپلٹ ماڈل کے ذریعے 500 میٹر بلندی پر گزشتہ 72 گھنٹوں کی ہوائی نقل و حرکت کا تجزیہ کیا گیا۔ نقشے میں افغانستان اور بھارت کی جانب سے لاہور پہنچنے والے فضائی راستے دکھائے گئے ہیں۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق بھارتی شہر امرتسر اور اٹاری کی جانب سے آنے والی ہوائیں بھی لاہور کی فضائی آلودگی کی ایک وجہ ہیں، تاہم فضائی راستوں کا تجزیہ آلودگی کے اصل منبع کی حتمی تصدیق نہیں کرتا۔
ادھر ویب سائٹ ہماری ہوا کے 3 نومبر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سات روز کے دوران فیصل آباد کے گرد 250 کلومیٹر کے علاقے میں 10,494، لاہور میں 10,115، سرگودھا میں 9,537 اور گوجرانوالہ میں 8,836 مقامات پر آگ کے نشانات ریکارڈ ہوئے۔ بھارتی پنجاب کے امرتسر میں یہ تعداد 8,892، لدھیانہ میں 6,853 اور چندی گڑھ میں 3,210 رہی۔ ماہرین کے مطابق فصلوں کی باقیات جلانے سمیت متعدد عوامل فضائی معیار کو متاثر کرتے ہیں، اور ان اعداد و شمار کی روشنی میں آلودگی سے نمٹنے کے لیے جامع اور طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔








