around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 33°☀ لاہور 27°⛅ اسلام آباد 24°
پاکستان

الیکشن کمیشن کا ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز نوٹس، انتخابی نشان واپس لینے کا عندیہ

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انٹرا پارٹی انتخابات مقررہ مدت میں نہ کرانے پر ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے کہ آئندہ انتخابات کے لیے اسے انتخابی نشان کیوں نہ دیا جائے یا برقرار نہ رکھا جائے۔

around.pk·1h ago

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پارٹی نے مقررہ مدت کے اندر انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے، جس پر اس سے تحریری وضاحت طلب کی گئی ہے۔ نوٹس کے مطابق پارٹی الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعات 208، 209 اور 215 کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔

کمیشن کے مطابق 16 اپریل 2026 کے حکم نامے کے ذریعے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کے لیے توسیع شدہ مدت دی گئی تھی اور ایم کیو ایم پاکستان کو 15 اکتوبر 2026 تک یہ عمل مکمل کرنا تھا، تاہم مقررہ وقت پر انتخابات منعقد نہیں ہوئے۔ اس حوالے سے 26 اکتوبر 2026 کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔

الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 209 اور الیکشن رولز 2017 کے رول 158 کے تحت ہر سیاسی جماعت پابند ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات مکمل ہونے کے سات روز کے اندر اس کے انعقاد کا سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرائے۔ کمیشن نے یاد دلایا کہ یہ شرط انتخابی نشان کے حصول یا اسے برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

نوٹس میں ایم کیو ایم پاکستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنا جواب اجرا کے چودہ روز کے اندر جمع کرائے، بصورت دیگر کمیشن قانون کے مطابق مزید کارروائی کرے گا۔ کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں پارٹی کو آئندہ انتخابات کے لیے انتخابی نشان حاصل کرنے یا برقرار رکھنے سے محروم کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات اور ان کی رپورٹنگ الیکشن کمیشن کی شفاف انتخابی عمل میں اہم ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ ایسے نوٹسز کا مقصد جماعتوں کو قانونی فریم ورک کے مطابق اندرونی جمہوری عمل مکمل کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے انتخابی عمل سے متعلق معلومات کی شفاف دستیابی بھی اہم ہے۔ اس نوعیت کے نوٹسز عام طور پر انتخابی نشان کے مرحلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اس لیے متعلقہ جماعت کے جواب اور کمیشن کی آئندہ کارروائی پر نظر رکھی جائے گی۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں